تذکرہ — Page 82
محبت ِ الٰہیہ میں ایسا کمال تام رکھتے ہیں کہ دُنیوی مشغولیاں گو کیسی ہی کثرت سے پیش آویں اُن کے حال میں خلل انداز نہیں ہوسکتیں۔۵۹خدائے تعالیٰ اُن کے برکات سے مسلمانوں کو متمتع کرے گا۔۶۰ سو اُن کا ظہور رحمت ِ الٰہیہ کے آثار ہیں سو اُن آثار کو دیکھو۔۶۱ اور اگر اِن لوگوں کی کوئی نظیر تمہارے پاس ہے۔یعنی اگر تمہارے ہم مشربوں اور ہم مذہبوں میں سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو اِسی طرح تائیداتِ الٰہیہ سے مؤیّد ہوں سو تم اگر سچے ہو تو ایسے لوگوں کو پیش کرو۔۶۲اور جو شخص بجز دینِ اسلام کے کسی اور دین کا خواہاں اور جویاں ہوگا وہ دین ہرگز اُس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ زیاں کاروں میں ہوگا۔۶۳۔یَـآ اَحْـمَدُ فَاضَتِ الرَّحْـمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ۔۶۴۔اِنَّـآ اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔؎۱ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْـحَرْ۔۶۵۔وَ اَقِـمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ۔۶۶۔اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَـا مَعَکَ۔۶۷۔سِـرُّکَ سِـرِّیْ۔۶۸۔وَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِٓیْ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔۶۹۔اِنَّکَ عَلٰی صِـرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔۷۰۔وَجِیْـھًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الْمُقَرَّ بِیْنَ۔۶۳ اے احمدتیرے لبوں پر رحمت جاری ہوئی ہے۔۶۴ ہم نے تجھ کو معارفِ کثیرہ عطا فرمائے ہیں سو اُس کے شکر میں نماز پڑھ اور قربانی دے۔۶۵ اور میری یاد کے لئے نماز کو قائم کر۔۶۶تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔۶۷تیرا بھید میرا بھید ہے۔۶۸ہم نے تیرا وہ بوجھ جس نے تیری کمر توڑ دی اُتار دیا ہے اور تیرے ذِکر کو اونچا کردیا ہے۔۶۹تُو سیدھی راہ پر ہے۔۷۰دنیا اور آخرت میں وجیہہ اور مقربین میں سے ہے۔۷۱ حَـمَاکَ اللّٰہُ۔۷۲۔نَصَـرَکَ اللّٰہُ۔۷۳۔رَفَعَ اللّٰہُ حُـجَّۃَ الْاِسْلَامِ۔۷۴۔جَـمَالٌ۔۷۵۔ھُوَ الَّذِیْ اَمْشَاکُمْ فِیْ کُلِّ حَالٍ۔۷۶۔لَا تُـحَاطُ اَسْرَارُ الْاَوْلِیَآءِ۔۷۱ خدا تیر ی حمایت کرے گا۔۷۲ خدا تجھ کو مدد دے گا۔۷۳ خدا حجت ِاسلام کو بلندکرے گا۔۷۴ جمالِ الٰہی ہے ۷۵ جس نے ہر حال میں تمہارا تنقیہ کیا ہے۔۷۶ خدائے تعالیٰ کو جو اپنے ولیوں میں اسرار ہیں وہ احاطہ سے باہر ہیں۔کوئی کسی راہ سے اس کی طرف کھینچا جاتا ہے اور کوئی کسی راہ سے… یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدائے تعالیٰ میں دو صفتیں ہیں جو تربیت ِ عباد میں مصروف ہیں۔ایک صفت رِفق اور لطف اور اِحسان ہے اس کا نام جمال ہے اور دوسری صفت قہر اور سختی ہے اِس کا نام جلال ہے۔سو ۱ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے نزول المسیح میں اس کا ترجمہ یوں فرمایا ہے۔’’ہم تجھے بہت سے ارادت مند عطا کریں گے اور ایک کثیر جماعت تجھے دی جاوے گی۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵