تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 1089

تذکرہ — Page 64

… اور لوگوں نے کہا کہ اے مریم! تُو نے یہ کیا مکروہ اور قابلِ نفرین کام دکھلایا جو راستی سے دُور ہے۔تیرا باپ؎۱ اور تیری ماں تو ایسے نہ تھے۔‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۵۱) ۱۸۸۳ء ’’ پھر بعد؎۲اس کے فرمایا۔۱۔نُصِـرْتَ وَ قَالُوْا لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ۱۔تو مدد دیا گیا اور انہوں نے کہا کہ اب کوئی گریز کی جگہ نہیں۔۲۔اِنَّ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّ وْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ رَدَّ عَلَیْھِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ۔۳۔شَکَرَ اللّٰہُ سَعْیَہٗ۔۲۔جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور خدا تعالیٰ کی راہ کے مزاحم ہوئے اُن کا ایک مرد فارسی الاصل نے ردّ لکھا ہے۔۳۔اُس کی سعی کا خدا شاکر ہے۔۴۔کِتَابُ الْوَلِیِّ ذُ و الْفَقَارِ عَلِیٍّ۳؎ ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اس الہام پر مجھے یاد آیا کہ بٹالہ میں فضل شاہ یا مہر شاہ نام ایک سیّد تھے جو میرے والد صاحب سے بہت محبت رکھتے تھے اور بہت تعلق تھا۔جب میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی کسی نے ان کو خبر دی تو وہ بہت روئے اور کہا کہ ان کے والد صاحب بہت اچھے آدمی تھے یعنی یہ شخص کس پر پیدا ہوا۔ان کا باپ تو نیک مزاج اور افترا کے کاموں سے دُور اور سیدھا اور صاف دل مسلمان تھا۔ایسا ہی بہتوں نے کہا کہ تم نے اپنے خاندان کو داغ لگایا کہ ایسا دعویٰ کیا۔‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۵۱، ۵۲ حاشیہ) ۲ یعنی الہام ’’نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُ نِّیْ رُوْحَ الصِّدْ قِ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۱ حاشیہ نمبر۳ ) (مرتّب) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔(الف) ’’ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گذرگیا کہ جب ذوالفقار علی کرّم اللہ وجہہٗ کے ہاتھ میں تھی مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اس امام کو دے دے گا۔اِس طرح پر کہ اُس کا چمکنے والاہاتھ وہ کام کرے گا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی سو وہ ہاتھ ایسا ہوگا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرّم اللہ وجہہٗ ہے جو پھر ظاہر ہوگئی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سلطان القلم ہوگا اور اُس کی قلم ذوالفقار کاکام دے گی۔یہ پیش گوئی۴؎ بعینہٖ ۴ یعنی پیش گوئی نعمت اللہ ولی صاحب یدِ بیضا کہ با او تابندہ باز با ذو الفقار مے بینم یعنی اس کا وہ روشن ہاتھ جو اتمام کے حجت کی رو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر میں اس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں۔(نشان آسمانی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۹۹) (ناشر)