تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 1089

تذکرہ — Page 63

۱۸۸۳ء (الف) فَاَجَآءَھَا؎۱ الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ۔قَالَتْ یَـا لَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۵۱) (ب) ’’ میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا اُسی کی نسبت میری گھبراہٹ ظاہر کرنے کے لئے یہ الہام ہوا تھا۔فَاَجَآءَہُ الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ۔قَالَ یَـا لَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا۔مَـخَاض سے مراد اس جگہ وہ امور ہیں جن سے خوفناک نتائج پیدا ہوتے ہیں اور جذع النخلۃ سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کی اولاد مگر صرف نام کے مسلمان ہیں۔بامحاورہ ترجمہ یہ ہے کہ درد انگیز دعوت جس کا نتیجہ قوم کا جانی دشمن ہوجانا تھا۔اس مامور کو قوم کے لوگوں کی طرف لائی جو کھجور کی خشک شاخ یا جڑ کی مانند ہیں۔تب اُس نے خوف کھا کر کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مرجاتا اور بھولا بسرا ہوجاتا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۶۸، ۶۹ حاشیہ) ۱۸۸۳ء ’’اور اس کے متعلق اور بھی الہام تھے۔جیسا لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّـا۔مَا کَانَ اَ بُـوْکِ امْرَءَ سَوْءٍ وَّ مَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا۔کشتی نوح میں جو ۱۹۰۲ء کی تصنیف ہے حضرت اقدسؑ تحریر فرماتے ہیں۔’’اس جگہ ایک اور الہام کا بھی ذکر کرتا ہوں اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے وہ الہام اپنے کسی رسالہ یا اشتہار میں شائع کیا ہے یا نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ صدہا لوگوں کو میں نے سنایا تھا اور میری یادداشت کے الہامات میں موجود ہے اور وہ اس زمانہ کا ہے جبکہ خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فَأَجَآءَھَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ۔قَالَتْ یَا لَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا یعنی پھر مریم کو جو مراد اِس عاجز سے ہے دردزِہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا جنہوں نے تکفیر و توہین کی اور گالیاں دیں اور ایک طوفان برپا کیا۔تب مریم نے کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مر جاتی اور میرا نام و نشان باقی نہ رہتا۔یہ اس شور کی طرف اشارہ ہے جو ابتدا میں مولویوں کی طرف سے بہ ہیئت مجموعی پڑا اور وہ اس دعویٰ کی برداشت نہ کرسکے اور مجھے ہر ایک حیلہ سے انہوں نے فنا کرنا چاہا۔تب اُس وقت جو کرب اور قلق ناسمجھوں کا شوروغوغا دیکھ کر میرے دل پر گذرا اس کا اس جگہ خدا تعالیٰ نے نقشہ کھینچ دیا ہے۔‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۵۱)