تذکرہ — Page 755
۳۱؍ مارچ۱؎۱۸۹۵ء ’’ اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عُرِضَ عَلٰی اَقْوَامٍ فَـمَا دَخَلَ فِیْھمْ وَمَا دَخَلُوْافِیْہِ اِلَّا قَوْمٌ مُنْقَطِعُوْنَ۔‘‘۲؎ (ضمیمہ اخبار بدر ۴؍ جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۳۲۲۔درس القرآن حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ تقطیع خورد صفحہ ۶۸۱۔البشریٰ قلمی نسخہ مرتبہ پیر سراج۳؎ ا لحق صاحب ؓ نعمانی صفحہ ۶۴۔تحریر حکیم مولوی قطب الدین صاحبؓ) ۱۳؍ اپریل۱۸۹۵ء ’’ نَـزَلَ مَلَکٌ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ ھُوَ اَعْلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ۔اِنَّ الْقَوْمَ یَقْتُلُوْ نَنِیْ۔اَیْ اَرَادُوْا قَتْلِیْ۔وَاَنّٰی لَھُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ۔‘‘۴؎ (تحریر حکیم مولوی قطب الدین صاحبؓ بواسطہ حکیم عبداللطیف صاحب گجراتی) ۱۷؍ اپریل۱۸۹۵ء ’’ ھُوَ مُؤْمَنٌ امن دیا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد ھُوَ مُؤْتَـمَنٌ۵؎۔اِن دونوں کی نسبت تفہیم نہیں ہوئی کہ کس کی نسبت ہیں۔‘‘ (تحریر حکیم مولوی قطب الدین صاحبؓ ) ۱۸۹۵ء ۶؎ ’’ بَلَغَ الْاَمْرُ اِلٰی حَدِّ ہٖ۔‘‘۷؎ (تحریر حکیم مولوی قطب الدین صاحبؓ ) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) حکیم عبداللطیف صاحب گجراتی بیان کرتے ہیں کہ یہ تاریخ حکیم مولوی قطب الدین صاحب ؓ کے قرآن مجید پر درج تھی۔۲ (ترجمہ از مرتّب) یقینا یہ قرآن قوموں پر پیش کیا گیا مگر ان پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا اور اُنہوں نے اُسے قبول نہ کیا ، ہاں اس قوم نے اسے قبول کرلیا جو دنیا سے منقطع تھے۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) پیر صاحب موصوف حاشیہ البشریٰ صفحہ ۶۴ میں لکھتے ہیں کہ ’’یہ الہام حضرت مولوی حافظ احمد اللہ صاحبؓ ناگپوری… (نے ) بتلایا ہے جو فرماتے ہیں کہ میرے قرآ ن شریف میں یہ بطور یادداشت لکھا ہوا ہے… حضرت اقدس علیہ السلام نے مسجد مبارک میں بیان فرمایا تھا۔‘‘ ۴ (ترجمہ از مرتّب) فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو سب سے بڑا تھا اُترا۔قوم مجھے قتل کرنا چاہتی ہے مگر ان کو دور کی جگہ سے پکڑنے کی کیسے توفیق ملے گی۔۵ (ترجمہ از مرتّب) وہ امن پایا ہوا ہے۔۶ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) حکیم مولوی عبداللطیف صاحب گجراتی کے نوٹوں میں ۱۳ محرم ۱۸۹۵ء درج ہے۔یعنی مہینہ قمری اور سال شمسی ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔۷ (ترجمہ از مرتّب) معاملہ اپنی حد تک پہنچ گیا۔