تذکرہ — Page 49
سو اُس رات اِس مطلب کے لئے قادرِ مطلق کی جناب میں دعا کی گئی۔علی الصباح بہ نظر کشفی ایک خط دکھلایا گیا جو ایک شخص نے ڈاک میں بھیجا ہے۔اس خط پر انگریزی زبان میں لکھا ہوا ہے۔آئی ایم کو ٔرلر؎۱ اور عربی میں یہ لکھا ہوا ہے۔ھٰذَا شَا ھِدٌ نَـزَّاغٌ اور یہی الہام حِکَا یَۃً عَنِ الْکَاتِب القا کیا گیا اور پھر وہ حالت جاتی رہی۔چونکہ یہ خاکسار انگریزی زبان سے کچھ واقفیت نہیں رکھتا۔اس جہت سے پہلےعلی الصباح میاں نور احمد صاحب کو اس کشف اور الہام کی اطلاع دے کر اور اُس آنے والے خط سے مطّلع کرکے پھر اُسی وقت ایک انگریزی خوان سے اُس انگریزی فقرہ کے معنے دریافت کئے گئے تو معلوم ہوا کہ اُس کے یہ معنے ہیں کہ میں جھگڑنے والا ہوں۔سو اِس مختصر فقرہ سے یقیناً یہ معلوم ہوگیا کہ کسی جھگڑے کے متعلق کوئی خط آنے والا ہے اور ھٰذَا شَاھِدٌ نَزَّاغٌ کہ جو کاتب کی طرف سے دوسرا فقرہ لکھا ہوا دیکھا تھا اُس کے یہ معنی کھلے کہ کاتب ِ خط نے کسی مقدّمہ کی شہادت کے بارہ میں وہ خط لکھا ہے۔اُس دن حافظ نور احمد صاحب بباعث ِ بارش باران امرتسر جانے سے روکے گئے اور درحقیقت ایک سماوی سبب سے اُن کا روکا جانا بھی قبولیت ِ دعا کے ایک خبر تھی تا وہ جیسا کہ اُن کے لئے خدائے تعالیٰ سے درخواست کی گئی تھی پیش گوئی کے ظہور کو بچشمِ خود دیکھ لیں۔غرض اُس تمام پیش گوئی کا مضمون ان کو سنا دیا گیا۔شام کو اُن کے روبرو پادری رجب علی صاحب مہتمم و مالک مطبع سفیر ہند کا ایک خط رجسٹری شدہ امرتسر سے آیا۔جس سے معلوم ہوا کہ پادری صاحب نے اپنے کاتب پر جو اِسی کتاب کا کاتب ہے عدالت ِ خفیفہ میں نالش کی ہے اور اِس عاجز کو ایک واقعہ کا گواہ ٹھہرایا ہے اور ساتھ اُس کے ایک سرکاری سمن بھی آیا اور اس خط کے آنے کے بعد وہ فقرہ الہامی یعنی ھٰذَا شَاھِدٌ نَزَّاغٌ جس کے یہ معنی ہیں کہ یہ گواہ تباہی ڈالنے والا ہے، ان معنوں پر محمول معلوم ہوا کہ مہتمم مطبع سفیر ہند کے دل میں بہ یقین کامل یہ مرکوز تھا کہ اس عاجز کی شہادت جو ٹھیک ٹھیک اور مطابق واقعہ ہوگی بباعث و ثاقت اور صداقت اور نیز بااعتبار اور قابل قدر ہونے کی و جہ سے سے فریق ثانی پر تباہی ڈالے گی اور اسی نیت سے مہتمم مذکور نے اس عاجز کو ادائے شہادت کے لئے تکلیف بھی دی اور سمن جاری کرایا اور اتفاق ایسا ہوا کہ ۱ I am quarreler۔