تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 691 of 1089

تذکرہ — Page 691

۱۱ ؍ مئی۱۹۰۷ء ’’رؤیا۔مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کو دیکھا کہ وہ ہمارے مکان میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔مَیں نے اپنے کسی آدمی کو کہا کہ مولوی صاحب کو خاطر داری سے کھانا کھلانا چاہیےان کو کوئی تکلیف نہ ہو۔اِس رؤیاسے معلوم ہوتا ہے۔واللہ اَعلم کہ وہ دن نزدیک ہے کہ خدا تعالیٰ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کو خود رہنمائی کرے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔یہ بھی ایک الہام سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ آخر وقت میں اُن کو سمجھا دے گا کہ انکار کرنا ان کی غلطی تھی اور یہ کہ مَیں اپنے دعویٰ مسیح موعود میں حق پر ہوں مگر معلوم نہیں کہ آخر وقت کے کیا معنی ہیں۱؎۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۲۰ مورخہ۱۶ ؍ مئی۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۱۷مورخہ ۱۷ ؍ مئی۱۹۰۷ء صفحہ ۷) ۱۲؍مئی۱۹۰۷ء (الف) ’’ ۱۔بدی کا بدلہ بدی ہے اُس کو پلیگ ہوگئی۔۲۔اس کا نتیجہ سخت طاعون ہے جو ملک میں پھیلے گی۔۳۔کئی نشان ظاہر ہوں گے۔۴۔اے بسا خانۂ دشمن کہ تو و یراں کردی۔ان شہروں کو دیکھ کر رونا آتا ہے روز حشر ہے۔۵۔اَعْیَیْنَاکَ۔۲؎ ۶۔ایک ہولناک نشان۔۷۔میری رحمت تجھ کو لگ جائے گی۔۸۔اللہ رحم کرے گا۔۹۔زبردست نشانوں کےساتھ ترقی ہوگی۔۱۰۔غَارَبَتِ الشَّبَابُ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۸، ۲۹) (ب) ’’کشف۔آج ایک شخص مجھے کشفی طور پر دکھلایا گیا مگر مَیں اُس کی شکل بھول گیا صرف یہ یاد رہا کہ وہ ایک سخت دشمن ہے جو اپنی تقریروں اور تحریروں میں گالیاں دیتا ہے اور سخت بد زبانی ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔’’میرے نزدیک اِس کی ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے دو لڑکے قادیان آئے۔انہوں نے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی اور میری بیعت میں شامل ہوئے۔بعد میں گو انہوں نے کمزوری دکھائی مگر وہ اخلاقی کمزوری تھی مذہبی کمزوری نہیں تھی… پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ پیشگوئی درحقیقت میرے ہاتھ پر پوری ہوئی۔اِس طرح وہ رؤیا بھی پورا ہوا جو کبڈی کے میچ کے متعلق مَیں نے دیکھا تھا اور جس میں مجھے بتایا گیا تھا کہ آخر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی اِس طرف آجائیں گے۔‘‘ (الفضل مورخہ ۱۲؍ مئی ۱۹۴۴ء صفحہ ۲) ۲ (ترجمہ) ۵۔یعنی ہم اِس قدر نشان دکھلائیں گے کہ تو دیکھتے دیکھتے تھک جائے گا۔(بدر ۱۶؍مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۳ (ترجمہ از ناشر)۔۱۰۔جوان چل بسے۔