تذکرہ — Page 623
پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم۔مَیں تجھے بہت برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم۔کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔تیرے لئے میرا نام چمکا۔پچاس یا ساٹھ نشان اَور دکھاؤں گا۔خدا کے مقبولوں میں قبولیّت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور ان کی تعظیم ملوک اور ذوی الجبروت کرتے ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۱؎۔پر تُو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔برہمن اوتار سے مقابلہ کرنا اچھا نہیں۔رَبِّ فَرِّقْ بَیْنَ صَادِقٍ وَّکَاذِبٍ۔اَنْتَ اے خدا سچّے اور جھوٹے میں فرق کرکے دکھلا۔تُو ہر ایک تَریٰ کُلَّ مُصْلِحٍ وَّ صَادِقٍ۔رَبِّ کُلُّ شَیْءٍخَادِمُکَ۔رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ۔وَانْصُرْنِیْ مصلح اور صادق کو جانتا ہے۔اے میرے خدا ہر ایک چیز تیری خادم ہے۔اے میرے خدا شریر کی شرارت سے مجھے نگہ رکھ اور میری مدد وَارْحَـمْنِیْ۔خدا قاتلِ توباد۔و مرا از شر تو محفوظ دارد۔زلزلہ آیا اُٹھو نمازیں پڑھیں کر اور مجھ پر رحم کر۔اے دشمن تُو جو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے خدا تجھے تباہ کرے اور تیرے شر سے مجھے نگہ رکھے۔یعنی وہ بھونچال اور قیامت کا نمونہ دیکھیں۔یُظْھِرُکَ اللّٰہُ وَیُثْنِیْ عَلَیْکَ۔لَوْلَاکَ لَمَا جو وعدہ دیا گیا ہے جلد آنے والا ہے۔اس وقت خد اکے بندے قیامت کا نمونہ دیکھ کر نمازیں پڑھیں گے۔خدا تجھے غالب کرے گااور تیری تعریف خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ۲؎۔اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ۔دستِ تو دُعائے تو لوگوں میں شائع کردے گا۔اگر مَیں تجھے پَیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔مجھ سے مانگو مَیں تمہیں دوں گا۔تیرا ہاتھ ہے اور تیری دُعا ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ پیشگوئی ایک ایسے شخص کے بارہ میں ہے جو مُرید بن کر پھر مُرتد ہوگیا اور بہت شوخیاں دکھلائیں اور گالیاں دیں اور زبان درازی میں آگے سے آگے بڑھا۔پس خدا فرماتا ہے کہ کیوں آگے بڑھتا ہے کیا تُو فرشتوں کی تلواریں نہیں دیکھتا؟۔منہ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۱حاشیہ) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ہر ایک عظیم الشان مصلح کے وقت میں روحانی طور پر نیا آسمان اور نئی زمین بنائی جاتی ہے۔یعنی ملائک کو اس کے مقاصد کی خدمت میں لگایا جاتا ہے اور زمین پر مُستعد طبیعتیں پیدا کی جاتی ہیں۔پس یہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۲حاشیہ)