تذکرہ — Page 553
۲۳؍ دسمبر ۱۹۰۵ء ’’وَ اَ مَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَـحَدِّ ثْ۔‘‘ ۱؎ ( بدر جلد ۱ نمبر۴۰ مورخہ۲۲؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۹۔الحکم جلد ۹ نمبر۴۵ مورخہ۲۴؍ دسمبر۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۶؍ دسمبر ۱۹۰۵ء ’’۱۔یَـا۲؎ قَـمَرُ یَـا شَـمْسُ اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَـا مِنْکَ۔۳؎ ۲۔اِنَّـا نُبَشِّـرُکَ بِغُلَامٍ نَّـافِلَۃً لَّکَ۔نَـافِلَۃً مِّنْ عِنْدِیْ۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۴۱ مورخہ۲۹؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۱ مورخہ۱۰؍ جنوری۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۳۱؍ دسمبر ۱۹۰۵ء (الف) ’’ رؤیا۔دیکھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی قبر کے پاس تین اَور قبریں ہیں اور ایک قبر پر لال کپڑا۴؎ ڈالا ہے۔‘‘ ( بدر جلد ۲ نمبر۱ مورخہ۵؍ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۱ مورخہ۱۰؍ جنوری۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۱ (ترجمہ) اور اپنے رَبّ کی نعمت کا ذکر کر۔(بدر مورخہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۹) ۲ (ترجمہ) ۱۔اے چاند اے سورج تو مجھ سے ہے اور مَیں تجھ سے ہوں۔۲۔ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔وہ تیرے لئے نافلہ ہے۔وہ ہماری طرف سے نافلہ ہے۔(بدر مورخہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ یَـا قَـمَرُ یَـا شَـمْسُ اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَـامِنْکَ یعنی اے چاند اور اے سورج تو مجھ سے ہے اور مَیں تجھ سے ہوں۔اِس وحیِ الٰہی میں ایک دفعہ خدا تعالیٰ نے مجھے چاند قرار دیا اور اپنا نام سورج رکھا۔اِس سے یہ مطلب ہے کہ جس طرح چاند کا نور سورج سے فیض یاب اور مستفاد ہوتا ہے اسی طرح میرا نور خدا تعالیٰ سے فیض یاب اور مستفاد ہے۔پھر دوسری دفعہ خدا تعالیٰ نے اپنا نام چاند رکھا اور مجھے سورج کر کے پکارا۔اِس سے یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی جلالی روشنی میرے ذریعہ سے ظاہر کرے گا۔وہ پوشیدہ تھا اب میرے ہاتھ سے ظاہر ہوجائے گااور اس کی چمک سے دُنیا بے خبر تھی مگر اَب میرے ذریعہ سے اس کی جلالی چمک دنیا کی ہر ایک طرف پھیل جائے گی۔‘‘ (تجلّیاتِ الٰہیہ۔روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۳۹۷) ۴ (نوٹ از ناشر) حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ ایڈیٹر الحکم تحریر کرتے ہیں۔’’لال کپڑے والی قبر کا نشان پورا ہوگیا۔‘‘ دیر ہوئی الحکم میں رؤیا حضرت حجۃ اللہ کا شائع ہوچکا ہوا ہے کہ آپ نے بہشتی مقبرے میں تیسری قبر پر لال کپڑا دیکھا جس سے مراد یہ تھی کہ تیسری قبر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی قبر کے علاوہ عورت کی ہوگی۔چنانچہ میاں مدد خان ملازم نواب محمد علی خان صاحب کی اہلیہ نے اس رؤیا کو پورا کردیا جو ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۶ء کو فوت ہوئی اور بہشتی مقبرہ میں جگہ پائی۔خدا مغفرت کرے۔‘‘ (الحکم مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۶)