تذکرہ — Page 32
مخالف اُس سے قتل ہوجاتے ہیں اور جب بائیں طرف چلاتا ہوں تو ہزارہا دشمن اُس سے مارے جاتے ہیں۔تب حضرت عبداللہ صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِس میری خواب کو سن کر بہت خوش ہوئے اور بشاشت اور انبساط اور انشراح صدر کے علامات و امارات اُن کے چہرہ میں نمودار ہوگئے اور فرمانے لگے کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ آپ سے بڑے بڑے کام لے گا اور یہ جو دیکھا کہ دائیں طرف تلوار چلا کر مخالفوں کو قتل کیا جاتا ہے اس سے مراد وہ اتمام حجت کاکام ہے کہ جو روحانی طور پر انوار و برکات کے ذریعہ سے انجام پذیر ہوگا اور یہ جو دیکھا کہ بائیں طرف تلوار چلا کرہزار ہا دشمنوں کو مارا جاتا ہے اِس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے ذریعہ سے عقلی طور پر خدا ئے تعالیٰ الزام و اسکاتِ خصم کرے گا اور دنیا پر دونوں طور سے اپنی حجت پوری کردے گا۔پھر بعد اس کے اُنہوں نے فرمایا کہ جب میں دنیا میں تھا تو میں امیدوار تھا کہ خدائے تعالیٰ ضرور کوئی ایسا آدمی پیدا کرے گا پھر حضرت عبداللہ صاحب مرحوم مجھ کو ایک وسیع مکان کی طرف لے گئے جس میں ایک جماعت راستبازوں اور کامل لوگوں کی بیٹھی ہوئی تھی لیکن سب کے سب مسلّح اور سپاہیانہ صورت میں ایسی چُستی کی طرز سے بیٹھے ہوئے معلوم ہوتے تھے کہ گویا کوئی جنگی خدمت بجالانے کے لئے کسی ایسے حکم کے منتظر بیٹھے ہیں جو بہت جلد آنے والا ہےپھر اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔یہ رؤیاصالحہ جو درحقیقت ایک کشف کی قسم ہے استعارہ کے طور پر اُنہیں علامات پر دلالت کررہی ہے جو مسیح کی نسبت ہم ابھی بیان کر آئے ہیں یعنی مسیح کا خنزیروں کو قتل کرنا اور علی العموم تمام کفّار کو مارنا اِنہیں معنوں کی رُو سے ہے کہ وہ حجت ِ الٰہی اُن پر پوری کرے گا اور بیّنہ کی تلوار سے ان کو قتل کردے گا۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۴۳ تا ۱۴۷ حاشیہ) ۱۸۸۱ء (قریباً) (الف) ’’خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس قدر اس بیت اللہ کو مخالف گرانا چاہیں گے اس میں سے معارف اور آسمانی نشانوں کے خزانے نکلیں گے۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ ہر یک ایذا کے وقت ضرور ایک خزانہ نکلتا ہے اور اس بارے میں الہام یہ ہے۔بقیہ حاشیہ۔کٹ جاتےہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ تلوار اپنی لنبائی کی و جہ سے دنیا کے کناروں تک کام کرتی ہے اور وہ ایک بجلی کی طرح ہے جو ایک دم میں ہزاروں کوس چلی جاتی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ہاتھ تو میرا ہی ہے مگر قوت آسمان سے اور میں ہر ایک دفعہ اپنے دائیں اور بائیں طرف اس تلوار کو چلاتا ہوں اور ایک مخلوق ٹکڑے ٹکڑے ہوکر گرتی جاتی ہے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۱۶، ۶۱۷)