تذکرہ — Page 525
(ب) ’’ نماز پڑھ رہے تھے اور فاتحہ کے بعد سورۃ والعصر پڑھنا تھا۔اتنے میں غنودگی ہوکر سورۃ والعصر کی جگہ بڑے زور سے زبان پر یہ سورۃ بطور الہام جاری ہوئی۔اِذَا جَآءَ نَصْـرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ۔‘‘۱؎ (بدر جلد ۱ نمبر۲۲ مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۱ مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۱۰) (ج) فرمایا۔’’ نصف رات سے فجر تک مولوی عبدالکریم کے لئے دعا کی گئی۔صبح (کی نماز) کے بعد جب سویا تو یہ خواب آئی… مَیں نے دیکھا کہ عبداللہ سنوری میرے پاس آیا ہے اور وہ ایک کاغذپیش کرکے کہتا ہے کہ اِس کاغذ پر مَیں نے حاکم سے دستخط کرانا ہے اور جلدی جانا ہے۔میری عورت سخت بیمار ہے اور کوئی مجھے پوچھتا نہیں۔دستخط نہیں ہوتے۔اس وقت مَیں نے عبداللہ کے چہرہ کی طرف دیکھا تو زرد رنگ اور سخت گھبراہٹ اس کے چہرہ پر ٹپک رہی ہے۔مَیں نے اُس کو کہا کہ یہ لوگ رُوکھے ہوتے ہیں۔نہ کسی کی سپارش مانیں اور نہ کسی کی شفاعت۔مَیں تیرا کاغذ لے جاتا ہوں۔آگے جب کاغذ لے کر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال نام جو کسی زمانہ میں بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھا۔کرسی پر بیٹھا ہوا کچھ کام کررہا ہے اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔مَیں نے جاکر کاغذ اس کو دیا اور کہا کہ یہ ایک میرا دوست ہے اور پرانا دوست ہے اور واقف ہے اس پر دستخط کردو۔اس نے بلا تامل اسی وقت لے کر دستخط کردیئے۔پھر مَیں نے واپس آکروہ کاغذ ایک شخص کو دیا اور کہا خبردار ہوش سے پکڑو ابھی دستخط گِیلے ہیں اورپوچھا کہ عبداللہ کہاں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ کہیں باہر گیا ہے۔بعد اس کے آنکھ کھل گئی اور ساتھ پھر غنودگی کی حالت ہوگئی۔تب مَیں نے دیکھا کہ اس وقت مَیں کہتا ہوں مقبول کو بلاؤ اس کے کاغذ پر دستخط ہوگئے ہیں۔یہ جو مٹھن لال دیکھا گیا ہے۔ملائک طرح طرح کے تمثلات اختیار کرلیا کرتے ہیں۔مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ تھا۔سنوری سے یہ مراد ہے سِنّور عربی میں بلّی کو کہتے ہیں اور علمِ تعبیر کی رُو سے بلّی ایک بیماری کا نمونہ ہے۔عبداللہ سنوری سے مراد ہوئی، وہ عبداللہ جو بیمار ہے۔فرمایا طِبّ تو ظاہری محکمہ ہے ایک اس کے وراء محکمہ پردہ میں ہے جب تک وہاں دستخط نہ ہو کچھ نہیں ہوتا۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۲۲ مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۱ مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۱۰) ۱ (ترجمہ از ناشر) جب اللہ کی مدد اور فتح آئے گی۔