تذکرہ — Page 517
اظہار کا پھر کوئی وقت قریب ہے۔‘‘ ( بدر۱؎ جلد ۱ نمبر۹ مورخہ یکم جون ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۳۰ ؍مئی۱۹۰۵ء ’’ صَلٰوۃُ الْعَرْشِ اِلَی الْفَرْشِ‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴۳) ۳۱؍ مئی۱۹۰۵ء (الف) ’’والدہ محمود کی مرض جو سخت تھی مشتبہ تھی۔الہام ہوا۔اِنَّ۳؎ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَـھْدِیْنِ‘‘۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴۳) ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۳۱؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱ میں بھی یہ الہام درج ہے۔تفصیل یوں ہے۔’’یہ پرانا الہام ہے جو براہین میں درج ہے مگر کل پھر اس کی تجدید ہوئی ہے۔معلوم ہوتا ہے نئے رنگ میں اس کا ظہور ہونے والا ہے۔‘‘ ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ یکم جون ۱۹۰۵ء صفحہ۲ میں الہام ’’ صَلٰوۃُ الْعَرْشِ اِلَی الْفَرْشِ۔‘‘ کے بارہ میں تحریر ہے۔’’ یعنی رحمت ِ الٰہی جو تم پر ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ عرش سے لے کر فرش تک ہے۔فرمایا۔اس میں کمّی کیفی مبالغہ ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کی رحمت نے فضا کو بھر دیا۔یہ الہام آئندہ بشارت پر دلالت کرتا ہے۔یہ لفظی ہی نہیں بلکہ عملی رنگ میں ظاہر ہونے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کی سُنّت ہے کہ جب وہ کسی پر خوش ہوتا ہے تو عملی رنگ میں اُس کا اظہار دُنیا پر کرتا ہے۔‘‘ بدر کی اس تفصیل کے علاوہ الحکم مورخہ۳۱ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱ میں اس الہام کے بارہ میں مزید تحریر ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کی سنت اور ہے کہ جب وہ کسی پر خوش ہوتا ہے تو پھر انعام و اکرام بھی کرتا ہے برخلاف اہل دنیا کے کہ وہ جب کسی سے کوئی عطیہ نذرانہ وغیرہ لے لیتے تو صرف لفظوں میں کہہ دیتے ہیںہم تم پر بہت خوش ہیں۔غرض یہ بڑا مبشر الہام ہے۔عرش تو تجلّی گاہِ الٰہی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمین میں قبولیت پیدا کردے گا جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص گمنامی کی حالت میں ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ جب اس سے راضی ہوتا ہے تو جبرئیل کو حکم دیتا ہے کہ ملائکہ کو اس کی خبر کردو اسی طرح پر وہ دوسرے ملائکہ کو اور زمین میں اس کی قبولیت ڈالی جاتی ہے۔‘‘ ۳ (ترجمہ) تحقیق میرے ساتھ میرا ربّ ہے مجھے راہ دکھائے گا اور کامیاب کرے گا۔(بدر مورخہ یکم جون ۱۹۰۵ء صفحہ ۲) ۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ یکم جون ۱۹۰۵ء صفحہ۲ اور الحکم مورخہ ۱۰؍جون ۱۹۰۵ءصفحہ ۱ میں اس الہام کے بارہ میں تحریر ہے کہ ’’حضرت کے گھر میں بیمار تھیں اور سخت تکلیف تھی۔کئی دوائیاں کیں کچھ فائدہ نہ ہوا آخر آپؑ دعا میں