تذکرہ — Page 516
میدان میں سے جو درحقیقت باغ کے قریب نصب کیا ہوا ہے ایک چیز گری ہے میں نے اس کو اُٹھا لیا جب غور سے دیکھا تو وہ ایک زیور ہے یعنی لونگ طلائی ہے گویا میری بیوی کا لونگ کھویا گیا تھا جو مل گیا۔‘‘ (کاپی الہامات۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴۳) ۲۸؍ مئی۱۹۰۵ء رؤیا۔’’ شیخ رحمت اللہ صاحب کی ایک گھڑی میرے پاس ہے اور ایک ایسی چیز جیسے ترازو کے دو پلڑے ہوتے ہیں۔مثل جھیوروں کی بینگھی کے۔مَیں ایک ڈولی میں بیٹھا ہوا ہوں۔پھر کسی نے میاں شریف احمد کو اس میں بٹھادیا اور اس کو چکر دینا شروع کیا۔اِتنے میں گھڑی گِر گئی اور اس جگہ قریب ہی گری ہے۔مَیں کہتا ہوں کہ اس کو تلاش کرو۔ایسا نہ ہو کہ محمد حسین نالش کردے۔فرمایا کہ خیال گزرتا ہے کہ شاید گھڑی سے مراد وہ ساعت ہے جو زلزلہ کی ساعت ہے جو معلوم نہیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔اور وہ رحمت کی ساعت ہے یعنی یہ ساعت ہمارے واسطے رحمت ِ الٰہی کا موجب ہوگی۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۸ مورخہ۲۵؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۹ مورخہ۳۱؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۹؍ مئی۱۹۰۵ء ’’ یَـاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ وَیَـاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔‘‘۲؎ (فرمایا) یہ الہام کوئی پچیس۲۵ سال کے بعد پھر ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کسی زبردست ۱ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۲۵؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۲ اور الحکم مورخہ۳۱؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱ میں یہ خواب ان الفاظ میں درج ہے۔’’دیکھا کہ کسی نے کہا کہ آنے والے زلزلے کی یہ نشانی ہے۔جب مَیں نے نظر اُٹھائی تو دیکھا کہ اس ہمارے خیمہ کے سر پر سے جو باغ کے قریب نصب کیا ہوا ہے، ایک چیز گِری ہے۔خیمہ کی چوب کا اُوپر کا سِرا وہ چیز ہے۔جب مَیں نے اُٹھایا تو وہ ایک لَونگ ہے جو عورتوں کے ناک میں ڈالنے کا ایک زیور ہے اور ایک کاغذ کے اندر لپٹا ہوا ہے۔میرے دل میں خیال گذرا کہ یہ ہمارے ہی گھر کا مدت سے کھویا ہوا تھا اور اَب ملا ہے اور زمین کی بلندی سے ملا ہے اور یہی نشانی زلزلہ کی ہے۔‘‘ ۲ (ترجمہ) اِس کثرت سے لوگ تیری طرف آئیں گے کہ جن راہوں پر وہ چلیں گے وہ عمیق ہوجائیں گے اور وہ مدد ہر ایک دُور کی راہ سے تجھے پہنچے گی اور ایسی راہوں سے پہنچے گی کہ وہ راہ لوگوں کے بہت چلنے سے جو تیری طرف آئیں گے گہرے ہوجائیں گے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۷)