تذکرہ — Page 494
۲ ؍مارچ۱۹۰۵ء ’’خدائے عزّوجلّ اس کی عزت رکھے۔‘‘ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۹) ۳ ؍مارچ۱۹۰۵ء ’’وہ رات جس کے بعد جمعہ ۳؍مارچ ۱۹۰۵ء ہے ایک بجنے کے بعد پینتیس ۳۵منٹ پر اس رات میں مَیں نے خواب دیکھا کہ کچھ روپیہ کی کمی اور سخت مشکلات پیش ہیں اور بہت فکر دامن گیر ہے۔مَیں کسی کو کہتا ہوں کہ ایک کاغذ بناؤ جس میں لکھا ہو کہ جمع یہ تھا اور خرچ یہ ہوا۔کوئی میری بات کی طرف توجہ نہیں کرتا اور سامنے ایک شخص کچھ حساب کے کاغذات لکھ رہا ہے۔مَیں نے شناخت کیا کہ یہ تو لچھمنؔ داس جمع خرچ نویس ہے جو کِسی زمانہ میں خزانہ سیالکوٹ میں اسی عہدہ پر نوکر تھا۔مَیں نے اس کو بلانا چاہا۔وہ بھی نہ آیا۔لاپروا رہا۔اور مَیں نے دیکھا کہ روپیہ کی بہت کمی ہے۔کسی طرح بات نہیں بنتی۔اسی اثناء میں ایک صالح مرد سادہ طبع سادہ پوش آیا۔اُس نے اپنی بھری ہوئی مٹھی روپیہ کی میری جھولی میں ڈال دی اور ایسے جلدی چلا گیا کہ مَیں اس کا نام بھی نہ پوچھ سکا مگر پھر بھی روپیہ کی کمی رہی۔پھر ایک اَور صالح مرد آیا جو محض نورانی شکل سادہ طبع کوٹلہ کے ایک صوفی کی شکل کے مشابہ تھا جس کا نام غالباً کرم الٰہی یا فضل الٰہی ہے جس نے کُرتہ بیچ کر ہمیں روپیہ دیا تھا صورت انسان کی ہے مگر علیحدہ خلقت کا آدمی معلوم ہوتا ہے۔اس نے د ونوں ہاتھ روپیہ سے بھر کر میری جھولی میں وہ روپیہ ڈال دیا اور وہ بہت سا روپیہ ہوگیا۔مَیں نے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے۔اس نے کہا۔نام کیا ہوتا ہے نام کچھ نہیں۔مَیں نے کہا کچھ بتلاؤ۔نام کیا ہے۔اس نے کہا ٹیچی؎۱۔اور مَیں اُس وقت چشم پُر آب ہوگیا کہ ہماری جماعت میں ایسے بھی ہیں جو اِس قدر روپیہ دیتے اور نام نہیں بتلاتے اور ساتھ ہی کہتا ہوں کہ یہ تو آدمی نہیں ہے یہ تو فرشتہ ہے۔اور جب بہت سے مال کا نظارہ میرے سامنے آیا مَیں نے کہا مَیں اس میں سے منظور محمد کی بیوی کو دوں گا کہ وہ حاجت مند ہے اور جب مَیں نے یہ خواب دیکھا اس وقت رات کا ایک بج کر اس پر پینتیس۳۵ منٹ زیادہ گزر چکے تھے۔‘‘ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۹ ) ۱ ’’ٹیچی پنجابی زبان میں وقت ِ مقررہ کو کہتے ہیں۔یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۴۶) ۲ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ اور ریویو آف ریلیجنز ماہ مارچ ۱۹۰۵ء ٹائٹل صفحہ آخر پر یہ خواب یوں درج ہے۔’’کوئی شخص ہے اس سے میں کہتا ہوں کہ تم حساب کرلو مگر وہ نہیں کرتا اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے ایک مٹھی