تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 1089

تذکرہ — Page 25

ڈاک خانجات کا افسر بحیثیت سرکاری مدعی ہونے کے حاضر ہوا۔اس وقت حاکم عدالت نے اپنے ہاتھ سے میرا اظہار لکھا اور سب سے پہلے مجھ سے یہی سوال کیا کہ کیا یہ خط تم نے اپنے پیکٹ میں رکھ دیا تھا اور یہ خط اور یہ پیکٹ تمہارا ہے۔تب میں نے بلا توقف جواب دیا کہ یہ میرا ہی خط اور میرا ہی پیکٹ ہے اور میں نے اِس خط کو پیکٹ کے اندر رکھ کر روانہ کیا تھا۔مگر میں نے گورنمنٹ کی نقصان رسانی محصول کے لئے بد نیتی سے یہ کام نہیں کیا بلکہ میں نے اِس خط کو اس مضمون سے کچھ علیحدہ نہیں سمجھا اور نہ اِس میں کوئی نج کی بات تھی۔اس بات کو سنتے ہی خدا تعالیٰ نے اِس انگریز کے دل کو میری طرف پھیر دیا اور میرے مقابل پر افسر ڈاک خانجات نے بہت شور مچایا اور لمبی لمبی تقریریں انگریزی میں کیں جن کو میں نہیں سمجھتا تھا مگر اِس قدر میں سمجھتا تھا کہ ہر ایک تقریر کے بعد زبان انگریزی میں وہ حاکم نو۔نو کرکے اُس کی سب باتوں کو ردّ کردیتا تھا۔انجام کار جب وہ افسر مدعی اپنے تمام وجوہ پیش کرچکا اور اپنے تمام بخارات نکال چکا تو حاکم نے فیصلہ لکھنے کی طرف توجہ کی اور شاید سطر یا ڈیڑھ سطر لکھ کر مجھ کو کہا کہ اچھا آپ کے لئے رخصت۔یہ سن کر میں عدالت کے کمرہ سے باہر ہوا اور اپنے محسن حقیقی کا شکر بجالایا جس نے ایک افسر انگریز کے مقابل پر مجھ کو ہی فتح بخشی اور میں خوب جانتا ہوں کہ اس وقت صدق کی برکت سے خدا تعالیٰ نے اُس بلا سے مجھ کو نجات دی۔میں نے اُس سے پہلے یہ خواب بھی دیکھی تھی کہ ایک شخص نے میری ٹوپی اتارنے کے لئے ہاتھ مارا۔میں نے کہا۔کیا کرنے لگا ہے۔تب اُس نے ٹوپی کو میرے سر پر ہی رہنے دیا اور کہا کہ خیر ہے۔خیر ہے۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۹۷ تا ۲۹۹) ۱۸۷۷ء (تخمیناً) ’’ایک پرانا الہام کوئی تیس۳۰ سال کا جو پہلے بھی حضرت نے کئی دفعہ سنایا ہے اور آج پھر سنایا… ۱۔فَارْتَدَّا؎۱ عَلٰی اٰثَا رِھِمَا وَ وُھِبَ لَہُ الْـجَنَّۃُ اتنے میں طاقت بالا اس کو کھینچ کر لے گئی۔۲۔یہودا اسکریوطی؎۲۔‘‘ (بدر جلد ۶نمبر ۴ مورخہ ۲۴ ؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ۳ ) ۱۸۷۷ء (قریباً) ’’ سَیُـہْزَمُ الْـجَمْعُ وَ یُـوَلُّوْنَ الدُّ بُـرَ یعنی آریہ مذہب کا انجام یہ ہوگا کہ خدا اُن کو شکست دے گا اور آخر وہ آریہ مذہب سے بھاگیں گے اور پیٹھ ۱ (ترجمہ از مرتّب) پھر وہ دونوں پچھلے پاؤں واپس لوٹ گئے اور اس کو جنت عطا کی گئی۔۲ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴ ؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں دوسرا الہام ’’یہودا اسکریوطی‘‘ درج نہیں۔