تذکرہ — Page 460
ہی پیشوا۔مَیں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۶۶،۶۷) ۱۹۰۳ء ’’ اور یہ خیال مت کرو کہ آریہ یعنی ہندو دیا نندی والے کچھ چیز ہیں وہ صرف اس زنبور کی طرح ہیں جس میں بجز نیش زنی کے اور کچھ نہیں۔وہ نہیں جانتے کہ توحید کیا چیز ہے اور روحانیت سے سراسر بے نصیب ہیں۔عیب چینی کرنا اور خدا کے پاک رسولوں کو گالیاں دینا ان کا کام ہے اور بڑا کمال ان کا یہی ہے کہ شیطانی وساوس سے اعتراضات کے ذخیرے جمع کررہے ہیں اور تقویٰ اور طہارت کی روح ان میں نہیں۔یاد رکھو کہ بغیر روحانیت کے کوئی مذہب چل نہیں سکتا اور مذہب بغیر روحانیت کے کچھ بھی چیز نہیں۔جس مذہب میں روحانیت نہیں اور جس مذہب میں خدا کے ساتھ مکالمہ کا تعلق نہیں اور صدق و صفا کی روح نہیں اور آسمانی کشش اُس کے ساتھ نہیں اور فوق العادت تبدیلی کا نمونہ اس کے پاس نہیں وہ مذہب مردہ ہے۔اس سے مت ڈرو۔ابھی تم میں سے لاکھوں اور کروڑوں انسان زندہ ہوں گے کہ اس مذہب کو نابود ہوتے دیکھ لو گے۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۶۷، ۶۸) ۱۹۰۳ء ’’ میرا ارادہ تھا کہ قبل اس کے جو ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو بمقام گورداسپور ایک مقدّمہ پر جاؤں… یہ رسالہ تالیف کرلوں اور اس کو ساتھ لے جاؤں۔تو ایسا اِتفاق ہوا کہ مجھے دردِ گُردہ سخت پیدا ہوا۔مَیں نے خیال کیا کہ یہ کام ناتمام رہ گیا۔صرف دو چار دن ہیں اگر مَیں اِسی طرح دردِ گردہ میں مبتلا رہا جو ایک مُہلک بیماری ہے تو یہ تالیف نہیں ہوسکے گا۔تب خدا تعالیٰ نے مجھے دعا کی طرف توجہ دلائی۔مَیں نے رات کے وقت میں جبکہ تین گھنٹے کے قریب بارہ بجے کے بعد رات گزر چکی تھی۔اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ اَب مَیں دُعا کرتا ہوں تم آمین کہو۔سو مَیں نے اسی درد ناک حالت میں صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کے تصورسے دعا کی کہ یا الٰہی اس مرحوم کے لئے مَیں اس کو لکھنا چاہتا تھا۔تو ساتھ ہی مجھے غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔یعنی سلامتی اور عافیت ہے، یہ خدائے رحیم کا کلام ہے۔پس قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھ نہیں بجے تھے کہ مَیں بالکل تندرست ہوگیا اور اسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ لیا۔فَالْـحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِک۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۷۴،۷۵)