تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 1089

تذکرہ — Page 396

خریدوفروخت کی ہے یعنی ایک چیز میری تھی جس کا تو مالک بنایا گیا اور ایک چیز تیری تھی جس کا مَیں مالک بن گیا تُو بھی اس خریدوفروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے مجھ سے خریدوفروخت کی۔۱۷۔تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد۔۱۸۔تُو مجھ میں سے ہے اور مَیں تجھ میں سے ہوں۔۱۹۔وہ وقت قریب ہے کہ مَیں ایسے مقام پر تجھے کھڑا کروں گا کہ دُنیا تیری حمد و ثنا کرے گی۔۲۰۔فوق تیرے ساتھ ہے اور تحت تیرے دشمنوں کے ساتھ۔۲۱۔پس صبر کر جب تک کہ وعدہ کا دن آجائے۔۲۲۔طاعون پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ کوئی بھی اس میں گرفتار نہیں ہوگا یعنی انجام کار خیروعافیت ہے۔‘‘ (دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۲۲۶ تا۲۲۸) ۲۱؍ اپریل ۱۹۰۲ء ’’ مدّت ہوئی کہ پہلے اس سے طاعون کے بارے میں حِکَایَۃً عَنِ الْغَیْر خدا نے مجھے یہ خبر دی تھی۔یَـا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَـا مگر آج کہ ۲۱؍اپریل ۱۹۰۲ء ہے اُسی الہام کو پھر اِس طرح فرمایا گیا۔یَا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْ۔وَانَـا لَنْ تَرٰی مِنْۢ بَعْدُ مَوَآ۔دَّنَا وَ فَسَادَنَـا۔یعنی اے خدا کے مسیح جو مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہماری جلد خبر لے اور ہمیں اپنی شفاعت سے بچا۔تُو اس کے بعد ہمارے خبیث مادوں کو نہیں دیکھے گا اور نہ ہمارا فساد کچھ فساد باقی رہے گا۔یعنی ہم سیدھے ہوجاویں گے اور گندہ دہانی اور بد زبانی چھوڑ دیں گے۔یہ خدا کا کلام براہین احمدیہ کے اُس الہام کے مطابق ہے کہ آخری دنوں میں ہم لوگوں پر طاعون بھیجیں گے جیسا کہ فرمایا کَذَالِکَ مَنَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ لِنَصْـرِفَ عَنْہُ السُّوْٓءَ وَالْفَحْشَآءَ۔یعنی ہم طاعون کے ساتھ اِس یوسف پر یہ احسان کریں گے کہ بدزبان لوگوں کا منہ بند کردیں گے تاکہ وہ ڈر کر گالیوں سے باز آجائیں۔انہی دنوں کے متعلق خدا کا یہ کلام ہے جس میں زمین کی کلام سے مجھے اطلاع دی گئی اور وہ یہ ہے یَـا وَ لِیَّ اللّٰہِ کُنْتُ لَا اَعْرِفُکَ۔یعنی اے خدا کے ولی! مَیں اس سے پہلے تجھے نہیں پہچانتی تھی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ کشفی طور پر زمین میرے سامنے کی گئی اور اس نے یہ کلام کیا کہ مَیں اب تک تجھے نہیں پہچانتی تھی کہ تُو وَ لِیُّ الرَّحْـمٰن ہے۔‘‘ (دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۲۲۸، ۲۲۹ حاشیہ) ۱۹۰۲ء ’’چراغ دین؎۱کی نسبت مَیں یہ مضمون؎۲لکھ رہا تھا کہ تھوڑی سی غنودگی ہوکر مجھ کو خدائے عزّوجلّ ۱ یعنی چراغ دین جمونی مرتد۔(شمس) ۲ رسالہ دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۳۹ تا ۲۴۲۔(ناشر)