تذکرہ — Page 359
۱۹۰۰ء ’’ ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر مَیں بیٹھا ہوا ہوں۔ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہےکہ کرشن جی کہاں ہیں؟ جس سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کرکے کہتا ہے کہ یہ ہے۔پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے۔اتنے ہجوم میں سے ایک ہندو بولا۔ہے کرشن جی رُودّر گوپال (یہ ایک عرصہ؎۱دراز کی رؤیاہے)‘‘ (البدر جلد۲ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخہ ۲۹؍اکتوبر و ۸؍نومبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۲۲) ۱۹۰۰ء ۲؎ ’’حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ ایک بار ہم نے کرشن جی کو دیکھا کہ وہ کالے رنگ کے تھے اور پتلی ناک۔کشادہ پیشانی والے ہیں۔کرشن جی نے اُٹھ کر اپنی ناک ہماری ناک سے اور اپنی پیشانی ہماری پیشانی سے ملا کر چسپاں کردی۔‘‘ (الحکم جلد۱۲ نمبر۱۷ مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۷) ۱۹۰۰ء ’’ ایک بار یہ الہام؎۳ ہوا تھا کہ آریوں کا بادشاہ آیا۔‘‘ (الحکم جلد ۱۲نمبر ۱۷ مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۷) ۱۹۰۰ء (الف) ’’ ایک دفعہ مجھے مرض ذیابیطس کے سبب بہت تکلیف تھی۔کئی دفعہ سَو سَو مرتبہ دن میں پیشاب آتا تھا۔دونوں شانوں میں ایسے آثار نمودار ہوگئے جن سے کاربنکل کا اندیشہ تھا۔تب مَیں دُعا میں مصروف ہوا تو یہ الہام ہوا۔وَ الْـمَـوْتِ اِذَا عَسْعَـسَ یعنی قسم ہے موت کی جب کہ ہٹائی جائے چنانچہ یہ الہام بھی ایسا پورا ہوا کہ اس وقت سے لے کر ہمیشہ ہماری زندگی کا ہر ایک سیکنڈ ایک نشان ہے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۱۳) (ب) ’’ پرانا الہام۔اَلْوَدَاعُ۔اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔غِیْضَ الْمَآءُ۔۴؎ وَ الْمَوْتِ اِذَا عَسْعَسَ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۵ ) (ج) ’’بارہا میں مشاہدہ کرتا ہوں کہ بعض وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی انذاری پیش گوئی میرے ۱، ۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چونکہ اس کشف کی صحیح تاریخ معلوم نہیں ہوسکی۔اس لئے سابقہ کشف کی مناسبت سے اسے یہاں درج کیا گیا۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اس الہام کی بھی صحیح تاریخ معلوم نہیں ہوسکی پچھلی مناسبت سے یہاں لکھا گیا۔۴ (ترجمہ از ناشر) پانی خشک ہوگیا۔