تذکرہ — Page 223
(ب) ’’ بَعْدَ مَا اَزْمَعْتُ تَـأْلِیْفَ ھٰذَا الْکِتَابِ اُلْھِمْتُ مِنْ رَّبِّ الْاَ۔رْبَـابِ اَنَّ الْکَافِرِیْنَ وَالْمُکَفِّرِیْنَ لَا یَقْدِ۔رُوْنَ عَلٰٓی اَنْ یُّـؤَلِّفُوْا کِتَا۔بًـا مِّثْلَ ھٰذَا فِیْ نَثْرِھَا وَنَظْمِھَا مَعَ الْتِزَامِ مَعَارِفِھَا وَحِکَمِھَا۔فَـمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّکَذِّ۔بَ اِلْھَامِیْ فَلْیَاْتِ بِـمِثْلِ کَلَامِیْ۔فَاِنَّ الْمَھْدِیَّ یُـھْدٰی اِلٰی اُمُوْرٍ لَّا یُـھْدٰی اِلَیْـھَا غَیْرُہٗ۔وَلَا یُدْ۔رِکُہٗ مُعَانِدُ۔ہٗ وَ لَوْ کَانَ عَلَی الْھَوَآءِ سَیْرُہٗ۔‘‘ ؎۱ (نورالحق حصّہ دوم سرورق طبع اوّل۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ۱۸۷) (ج) ’’وَقَدْ اُلْھِمْتُ مِنْ رَّبِّیْ اَنَّـھُمْ کُلُّھُمْ کَالْاَعْـمٰی وَلَنْ یَّاْتُوْا بِـمِثْلِ ھٰذَا وَاَنَّـھُمْ کَانُوْا فِیْ دَعَاوِیْـہِمْ کَاذِبِیْنَ۔‘‘؎۲ (نورالحق حصّہ دوم۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۲۶۰) (د) ’’رسالہ نورالحق اگرچہ عیسائیوں کی مولویت آزمانے کے لئے لکھا گیا مگر یہ چند مخالف یعنی شیخ محمد حسین بطالوی اور اس کے نقشِ قدم پر چلنے والے میاں رُسل بابا وغیرہ جو مکفّر اور بدگو اوربدزبان ہیں اِس خطاب سے باہر نہیں ہیں۔الہام سے یہی ثابت ہوا ہے کہ کوئی کافروں اور مکفّروں سے رسالہ نورالحق کا جواب نہیں لکھ سکے گا کیونکہ وہ جھوٹے اور کاذب اور مفتری اور جاہل اور نادان ہیں۔‘‘ (اتـمام الـحجّۃ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۰۳) ۱۸۹۴ء ’’دوخواب اور دو الہام سے مجھ پر ظاہر ہوا ہے کہ دشمن اور مخالف اس کی نظیر بنانے سے عاجز رہے گا۔‘‘ (از مکتوب بنام مولوی اصغر علی صاحب پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور۔مکتوبات احمد جلد ۵ صفحہ ۳۷۹مطبوعہ ۲۰۱۵ء) ۱۸۹۴ء ’’ وَلِیْ اَنْ اَقُوْلَ اِنَّنِیْ حِرْزٌ لَّھَا وَحِصْنٌ حَافِظٌ مِّنَ الْاٰفَاتِ وَبَشَّـرَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ بَـھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ۔۱۱ (ترجمہ از مرتّب) اور جب مَیں نے اس کتاب (نورالحق) کی تالیف کا پختہ ارادہ کرلیا تو خداوند کریم کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا کہ کافر اور مکفّر لوگ اس جیسی کتاب کی تالیف نہیں کرسکیں گے۔جو ا س کی نثر اور نظم میں اور معارف اور حکمتوں کے التزام میں اس کی مثل ہو۔اِس لئے جو شخص میرے دعوٰیءِ الہام کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتا ہو اُسے چاہیے کہ میرے اس کلام کی مثل لائے اور یاد رکھو کہ کوئی اس کی مثل نہیں لاسکتا کیونکہ مہدی ان امور کی طرف راہ پاتا ہے جن تک اس کے غیر کی رسائی نہیں ہوتی اور اس کا دشمن اسے نہیں پاسکتا اگرچہ وہ ہَوا میں ہی کیوں نہ اُڑتا ہو۔۲ (ترجمہ از مرتّب) میرے ربّ کی طرف سے مجھے الہام ہوا ہے کہ یہ سب ہی اندھوں کی طرح ہیں اور اس کی مثل ہرگز نہیں لاسکیں گے اور یہ اپنے دعووں میں جھوٹے ہیں۔