تذکرہ — Page 202
لِتَکُوْنُوْا مِنَ الْمُبَصِّرِیْنَ۔فَاَمَّا شَـجُّ الرُّءُوْسِ وَ ذَعْطُ الْـحُلُوْقِ فَتَاْوِیْلُہٗ کَسْـرُ کِبْرِ الْاَعْدَاءِ۔وَ قَصْمُ اِزْدِھَآئِھِمْ وَجَعْلُھُمْ کَالْمُنْکَسِرِیْنَ۔وَاَمَّا تَقْطِیْعُ الْاَیْدِیْ فَتَاْوِیْلُہٗ اِزَالَۃُ قُوَّۃِ الْمُبَارَاتِ وَالْمُمَارَاتِ وَاِعْـجَازُھُمْ وَصَدُّ ھُمْ عَنِ الْبَطْشِ وَحِیَلِ الْمُقَاوَمَاتِ وَانْتِزَاعُ اَسْلِحَۃِ الْھَیْجَآءِ مِنْھُمْ وَجَعْلُھُمْ مَـخْذُوْلِیْنَ مَصْدُوْدِیْنَ وَاَمَّا تَقْطِیْعُ الْاَرْجُلِ فَتَاْوِیْلُہٗ اِتْـمَامُ الْـحُجَّۃِ عَلَیْھِمْ وَسَدُّ طَرِیْقِ الْمَنَاصِ وَتَغْلِیْقُ اَبْـوَابِ الْفِرَارِ وَتَشْدِیْدُ الْاِلْزَامِ عَلَیْھِمْ وَجَعْلُھُمْ کَالْمَسْجُوْنِیْنَ وَھٰذَا فِعْلُ اللّٰہِ الَّذِیْ قَادِرٌ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ۔یُعَذِّ بُ مَنْ یَّشَآءُ۔وَ یَـرْحَـمُ مَنْ یَّشَآءُ۔وَ یَـھْزِمُ مَنْ یَّشَآءُ۔وَ یَفْتَحُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ مَا کَانَ لَہٗ اَحَدٌ مِّنَ الْمُعْـجِزِیْنَ۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۷۸تا ۵۸۱) (ب) ’’مدّت کی بات ہے، مَیں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ مَیں ایک گھوڑے پر سوار ہوں اور باغ کی طرف جاتا ہوں اور مَیں اکیلا ہوں۔سامنے سے ایک لشکر نکلا جس کا یہ ارادہ ہے کہ ہمارے باغ کو کاٹ دیں۔مجھ پر اُن کا کوئی خوف طاری نہیں ہوا اور میرے دل میں یہ یقین ہے کہ مَیں اکیلا ان سب کے واسطے کافی ہوں۔وہ لوگ اندر باغ میں چلے گئے اور ان کے پیچھے مَیں بھی چلا گیا۔جب مَیں اندر گیا تو مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سب کے سب مرے پڑے ہیں اور اُن کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کاٹے ہوئے ہیں اور اُن کی کھالیں اُتری ہوئی ہیں تب خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا نظارہ دیکھ کر مجھ پر رقت طاری ہوئی اور مَیں رو پڑا کہ کس کا مقدور ہے کہ ایسا کر سکے۔فرمایا۔اس لشکر سے ایسے ہی آدمی مراد ہیں جو جماعت کو مُرتد کرنا چاہتے ہیں اور اُن کے عقیدوں کو بگاڑنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت کے باغ کے درختوں کو کاٹ ڈا لیں۔خدا تعالیٰ اپنی قدرت نمائی بقیہ ترجمہ۔تمہاری بصیرت افزائی کے لئے اس رؤیا کی تعبیر کھول کر بتاتا ہوں۔اس میں سر کو کچلنے اور گلا کاٹنے سے مراد دشمن کے تکبّر کو اور اُن کے فخرو غرور کو توڑنا اور اُن میں انکسار پیدا کرنا ہے اور اُن کے ہاتھوں کو کاٹنے سے مراد اُن کی مقابلہ کی قوت کو مٹانا، اُنہیں عاجز کردینا اور چیرہ دستی سے اور مقابلہ کرنے سے روکنا اور ان سے لڑائی کے ہتھیار چھین لینا اور انہیں بستگی اور بے چارگی کی حالت میں کردینا ہے۔اور پاؤں کاٹنے کے معنے اُن پر اتمام حجت کرنا اور بھاگ سکنے کی تمام راہیں اور فرار کے تمام دروازے بند کرنا اور انہیں پورے طور پر ملزم کرنا اور قیدیوں کی طرح کردینا ہے۔اوریہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو ہر ایک بات پر کامل قدرت رکھتا ہے جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے شکست دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے فتح دیتا ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔