تذکرہ — Page 197
حَضْـرَتِیْ۔۱۷۔اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ۔۱۸ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُـحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُـحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغَفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیَـرْحَـمْ عَلَیْکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۵۵۰، ۵۵۱) ۱۸۹۳ء ’’ تَضَـرَّ؎۱عْتُ فِیْ حَضْـرَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَطَرَحْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ مُتَمَنِّیًا لِّکَشْفِ سِـرِّالنُّزُوْلِ وَکَشْفِ حَقِیْقَۃِ الدَّجَّالِ لِاَعْلَمَہٗ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔وَاَرَاہُ عَیْنَ الْیَقِیْنِ۔فَتَوَجَّھَتْ عَنَایَتُہٗ لِتَعْلِیْمِیْ وَتَفْھِیْمِیْ۔وَاُلْھِمْتُ وَعُلِّمْتُ مِنْ لَّدُنْہُ اَنَّ النُّزُوْلَ فِیْ اَصْلِ مَفْھُوْمِہٖ حَقٌّ وَّلٰکِنْ مَّافَھِمَ الْمُسْلِمُوْنَ حَقِیْقَتَہٗ…… فَاَخْبَـرَنِیْ رَبِّیْ اَنَّ النُّـزُوْلَ رُوْحَانِیٌّ لَّاجِسْمَانِیٌّ…… اَمَّا الدَّ۔جَّالُ فَاسْـمَعُوْا اُ۔بَیِّنْ لَّکُمْ حَقِیْقَتَہٗ مِنْ صَفَآءِ اِلْھَامِیْ وَ زُلَالِیْ…… اَیُّـھَا الْاَعِزَّۃُ قَدْکُشِفَ عَلَیَّ اَنَّ وَحْدَ ۃَ الدَّجَّالِ لَیْسَتْ وَحْدَ ۃً شَـخْصِیَّۃً بَلْ وَحْدَ ۃٌ نَّـوْعِیَّۃٌ بِـمَعْنٰی اِتِّـحَادِ الْاٰرَآءِ فِیْ نَوْعِ الدَّجَّالِیَّۃِ کَمَا یَدُ۔لُّ عَلَیْہِ لَفْظُ الدَّجَّالِ وَ اِنَّ فِیْ ھٰذَا الْاِسْـمِ اٰیَـاتٍ لِّلْمُتَفَکِّرِیْنَ۔فَالْمُرَادُ مِنْ لَّفْظِ الدَّجَّالِ سِلْسِلَۃٌ مُّلْتَئِمَۃٌ مِّنْ ھِمَمٍ دَجَّالِیَّۃٍ بَعْضُھَا ظَھِیْرٌ لِّلْبَعْضِ کَاَنَّـھَا بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ مِّنْ لَّبِنٍ مُّتَّحِدَ ۃِ الْقَالِبِ کُلُّ لَبِنَۃٍ تُشَارِکُ مَا یَلِیْـھَا فِیْ لَوْنِـھَا وَ قِوَامِھَا وَمِقْدَارِھَا وَ اسْتِحْکَامِھَا وَاُدْخِلَتْ بَعْضُھَا فِیْ بَعْضٍ وَّ اُشِیْدَتْ مِنْ بقیہ ترجمہ۔۱۷مَیں نے تجھے اپنے لئے اختیار کیا۔۱۸کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے اور تمہارے گناہ بخش دے اور تم پر رحم کرے اور وہی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں نے اللہ تعالیٰ کے حضور زاری کی اور اس کے سامنے اپنے آپ کو یہ تمنّا کرتے ہوئے ڈال دیا کہ مجھ پر نزول کا راز کھلے اور دجّال کی حقیقت کا انکشاف ہو تاکہ علم الیقین کی رُو سے جانوں اور عین الیقین کی آنکھ سے دیکھوں۔تب اس کی عنایت میری تعلیم و تفہیم کی خاطر متوجہ ہوئی اور مجھے الہاماً بتلایا گیا کہ اصل مفہوم کے لحاظ سے تو نزول حق ہے مگر مسلمان اس کی حقیقت کو نہیں سمجھے … پس میرے ربّ نے مجھے بتلایا کہ نزول روحانی ہے جسمانی نہیں… اب دجّال کے متعلق سُنو جس کی حقیقت مَیں تمہیں صاف اور خالص الہام سے بتاتا ہوں … اے عزیزو! مجھے بتایا گیا ہے کہ دجّال کو بصیغہ واحد ذکر کرنے سے مقصود اس کی وحدتِ شخصی کا اظہار نہیں بلکہ وحدتِ نوعی مراد ہے کہ اس کے تمام افراد دجّالی خیالات میں ہم رنگ ہوں گے جیسا کہ اس لفظ دجّال سے بھی ظاہر ہوتا ہے اور سوچنے سے یہ نام کئی رنگ میں اس حقیقت کا پتہ دیتا ہے۔پس لفظ دجّال سے مراد دجّالی خیالات کی ایک زنجیر ہے جس کی کڑیاں ایک دوسری سے ایسی ملی ہوئی ہیں جیسے ایک قالب کی اینٹوں کی پختہ عمارت ہو جس کی اینٹیں رنگ، قوام،