تذکرہ — Page 105
ہی کا شہر نہ ہو۔لوگوں کے شوق اور ارادت پر آپ خوش نہ ہوں حقیقی شوق اور ارادت کہ جولغزش اور ابتلا کے مقابلہ پر کچھ ٹھہر سکے لاکھوں میں سے کسی ایک کو ہوتا ہے… بہتر ہے کہ آنمخدوم ابھی اس عاجز کی تکلیف کشی کے لئے بہت زورنہ دیں کہ کئی اندیشوں کا محل ہے۔یہ عاجز معمولی زاہدوں اور عابدوں کے مشرب پر نہیں اور نہ ان کی رسم اور عادت کے مطابق اوقات رکھتا ہے بلکہ ان کے پیرایہ سے نہایت بیگانہ اور دُور ہے۔سَیَفْعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۵۸۸، ۵۸۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) تخمیناً فروری ۱۸۸۴ء ’’مجھ کو یاد ہے اور شاید عرصہ تین ماہ یا کچھ کم و بیش ہوا ہے کہ اس عاجز کے فرزند؎۱ نے ایک خط لکھ کر مجھ کو بھیجا کہ جو میں نے امتحان تحصیلداری کا دیا ہے اُس کی نسبت دعا کریں کہ پاس ہوجاوے اور بہت کچھ انکسار اور تذلّل ظاہر کیا کہ ضرور دعا کریں۔مجھ کو وہ خط پڑھ کر بجائے رحم کے غصہ آیا کہ اس شخص کو دنیا کے بارے میں کس قدر ہم اور غم ہے چنانچہ اس عاجز نے وہ خط پڑھتے ہی بہ تمام تر نفرت و کراہت چاک کردیا اور دل میں کہا کہ ایک دنیوی غرض اپنے مالک کے سامنے کیا پیش کروں۔اس خط کے چاک کرتے ہی الہام ہوا کہ ’’پاس ہوجاوے گا‘‘ اور وہ عجیب الہام بھی اکثر لوگوں کو بتلایا گیا چنانچہ وہ لڑکا پاس ہوگیا۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ۔‘‘ (الحکم جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۳؍ ستمبر ۱۸۹۹ء صفحہ ۱، ۲) ۱۸۸۴ء ’’ایک دفعہ نواب علی محمد؎۲خاں مرحوم رئیس لودھیانہ نے میری طرف خط لکھا کہ میرے بعض امور معاش بند ہوگئے ہیں آپ دعا کریں کہ تا وہ کھل جائیں۔جب مَیں نے دعا کی تو مجھے الہام ہوا کہ کُھل جائیں گے میں نے بذریعہ خط ان کو اطلاع دے دی۔پھر صرف دو چار دن کے بعد وہ وجوہ معاش کُھل گئے اور اُن کو بشدّت اعتقاد ہوگیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۵۷) ۱ خان بہادر مرزا سلطان احمدصاحب مرحوم مراد ہیں۔(شمس) ۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمد ؓ) نواب علی محمد خانصاحب مرحوم کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ وہ دراصل جھجر کے رئیس تھے مگر لدھیانہ میں رہائش رکھتے تھے اور آپ حضرت اقدس سے بہت اخلاص رکھتے تھے اور اکثر حضور سے اپنی مشکلات کے حل کروانے کے لئے دعا کروایا کرتے تھے ان کے متعلق جن نشانات کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے ان میں نہ تو کوئی ترتیب مدنظر ہے اور نہ ہی سوائے ایک دو کے کہ جن میں تاریخ درج ہے صحیح طور پر تاریخ کا کوئی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ہاں صرف قیاس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ واقعات۱۸۸۴ء کے قریب قریب کے ہیں۔