تذکرہ — Page 92
ہے اور ۱۴دوست خدا ہے۔۱۵خلیل اللہ ہے۔۱۶اسد اللہ ہے ۱۷اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود بھیج۔یعنی یہ اُسی نبی کریم کی متابعت کا نتیجہ ہے۔اور بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ ۱۸خدا نے تجھ کو ترک نہیں کیا اور نہ وہ تجھ پر ناراض ہے۔۱۹ کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا۔۲۰کیا ہم نے ہر یک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ ۲۱تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا اور ۲۲جو شخص بیت الذکر میں باخلاص و قصد تعبّد و صحت نیت و حُسن ایمان داخل ہوگا وہ سوء خاتمہ سے امن میں آجائے گا۔بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے کہ جو اُس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے۔اور آخری فقرہ مذکورہ بالا اسی مسجد؎۱کی صفت میں بیان فرمایا ہے جس کے حروف سے بنائے مسجد کی تاریخ بھی نکلتی ہے اور وہ یہ ہے۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔(الف)’’ اس مسجد مبارک کے بارے میں پانچ مرتبہ الہام ہوا۔منجملہ ان کے ایک نہایت عظیم الشان الہام ہے اور وہ دونوں فقرہ یہ ہیں۔فِیْہِ بَرَکَاتٌ لِّلنَّاسِ۔وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۵۶۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (ب) ’’ایک مرتبہ میں نے اس مسجد کی تاریخ… الہامی طور پر معلوم کرنی چاہی تو مجھے الہام ہوا۔مُبَارِکٌ وَّمُبَارَکٌ وَّکُلُّ اَمْرٍ مُّبَارَکٍ یُّـجْعَلُ فِیْہِ۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۹۰) (ج) ’’اس الہام میں تین قسم کے نشان ہیں۔(۱) اوّل یہ کہ اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مادۂ تاریخ بنائے مسجد ہے۔(۲) دوم یہ کہ یہ پیش گوئی بتلا رہی ہے کہ ایک بڑے سلسلہ کے کاروبار اسی مسجد میں ہوں گے چنانچہ اب تک اسی مسجد میں بیٹھ کر ہزار ہا آدمی بیعت توبہ کرچکے ہیں اسی میں بیٹھ کر صد ہا معارف بیان کئے جاتے ہیں اور اسی میں بیٹھ کر کتب ِ جدیدہ کی تالیف کی بنیاد پڑتی ہے اور اسی میں ایک گروہِ کثیر مسلمانوں کا پنج وقت نماز پڑھتا ہے اور وعظ سنتے ہیں اور دلی سوز سے دعائیں کی جاتی ہیں اور بنائے مسجد کے وقت میں ان باتوں میں سے کسی بات کی علامت موجود نہ تھی۔(۳)سوم یہ کہ یہ الہام دلالت کررہا ہے کہ آئندہ زمانہ میں کوئی آفت آنے والی ہے اور جو شخص اخلاص کے ساتھ اس میں داخل ہوگا وہ اس آفت سے بچ جاوے گا اور براہین احمدیہ کے دوسرے مقامات سے ثابت ہوچکا ہے کہ وہ آفت طاعون ہے۔سو یہ پیش گوئی بھی اس سے نکلتی ہے کہ جو شخص پُوری ارادت اور اخلاص سے جس کو خدا پسند کر لیوے اس مسجد میں داخل ہوگا وہ طاعون سے بھی بچایا جائے گا یعنی طاعونی موت سے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۲۵، ۵۲۶)