تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 1089

تذکرہ — Page 81

انجام کو پہنچ جاتا اور بآسانی فتح عظیم حاصل ہوجاتی لیکن تکالیف اِس جہت سے ہیں کہ تا وہ تکالیف موجب ترقی مراتب و مغفرت خطا یا ہوں… ۴۷۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔۴۸۔فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِـمَّاقَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْـھًا۔۴۹۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔۵۰۔فَلَمَّا تَـجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا۔۵۱۔وَ اللّٰہُ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکَافِرِیْنَ۔۵۲۔بَعْدَ الْعُسْـرِ یُسْـرٌ۔۵۳۔وَلِلہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ۔۵۴۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔۵۵۔وَلِنَجْعَلَہٗ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحْـمَۃً مِّنَّا وَ کَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔۵۶۔قَوْلُ الْـحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ تَـمْتَـرُوْنَ۔۴۷کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں۔۴۸پس خدا نے اُس کو اُن الزامات سے بَری کیا جو اُس پر لگائے گئے تھے اور خدا کے نزدیک وہ وجیہ؎۱ ہے۔۴۹کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں۔۵۰پس جبکہ خدا نے پہاڑ پر تجلّی کی تو اُس کو پاش پاش کردیا یعنی مشکلات کے پہاڑ آسان ہوئے۔۵۱اور خدائے تعالیٰ کافروں کے مکر کو سست کردے گا اور اُن کو مغلوب اور ذلیل کرکے دکھلائے گا۔۵۲تنگی کے بعد فراخی ہے۔۵۳اور پہلے بھی خدا کا حکم ہے اور پیچھے بھی خدا کا ہی حکم ہے۔۵۴کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں۔۵۵اور ہم اُس کو لوگوں کے لئے رحمت کا نشان بنائیں گے اور یہ امر پہلے ہی سے قرار پایا ہوا تھا۔۵۶ یہ وہ سچی بات ہے جس میں تم شک کرتے ہو۔۵۷۔مُـحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَـمَآءُ بَیْنَھُمْ۔۵۸۔رِجَالٌ لَّا تُلْھِیْـہِمْ تِـجَارَۃٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ۔۵۹۔مَتَّعَ اللّٰہُ الْمُسْلِمِیْنَ بِبَرَکَاتِـھِمْ ۶۰۔فَانْظُرُوْٓا اِلٰٓی اٰثَـارِ رَحْـمَۃِ اللّٰہِ۔۶۱وَاَنْبِئُوْنِیْ مِنْ مِّثْلِ ھٰٓؤُلَآءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔۶۲ وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا لَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْـخَاسِـرِیْنَ۔۵۷محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کا رسول ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں وہ کفّار پر سخت ہیں۔یعنی کفّار اُن کے سامنے لاجواب اور عاجز ہیں اور اُن کی حقانیت کی ہیبت کافروں کے دلوں پر مستولی ہے اور وہ لوگ آپس میں رحم کرتے ہیں۔۵۸وہ ایسے مرد ہیں کہ ان کو یادِ الٰہی سے نہ تجارت روک سکتی ہے اور نہ بیع مانع ہوتی ہے۔یعنی محبت ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ پیشگوئی اس طرح پر پوری ہوئی کہ کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر کے وقت میں میرے پر خون کا الزام لگایا گیا۔خدا نے اُس سے مجھے بَری کردیا اور پھر مسٹر ڈوئی ڈپٹی کمشنر کے وقت میں مجھ پر الزام لگایا گیا اُس سے بھی خدا نے مجھے بَری کردیا اور پھر مجھ پر جاہل ہونے کا الزام لگایا۔سو مخالف مولویوں کی خود جہالت ثابت ہوئی۔اور پھر مہرعلی نے مجھ پر سارق ہونے کا الزام لگایا سو اس کا خود سارق ہونا ثابت ہوا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۰۹)