تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 55
ہے اپنے رسول کو جہاد کی اجازت دی بے شک خدا علیم ہے مگر جب کسی قوم کی شرارت حد سے گزر جاتی ہے تو وہ ظالم کو بے سزا نہیں چھوٹہ تا اور آپ ان کے لئے تباہی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔اس جہاد کو تلوار کے زور سے اسلام پھیلانا نہیں کہتے قرآنی تعلیم ہے لا اکراہ فی الدین۔دین میں جبر نہیں اور آنحضور قرآنی تعلیم کے پاسدار تھے۔مسلمان ہو کہ لوگوں کو کیا ملتا تھا ظلم ابتلا امتحان اور سزائیں۔جبیر سے مسلمان ہونے والے اتنا صدق اور ایمان نہیں رکھتے کہ لا إله الا اللہ کا پیغام دینے کے لئے سر کٹاتے پھریں۔سوال: اسلام کی تعلیم کیا ہے ؟ جواب : اسلام کا بڑا بھاری مقصد خدا کی توحید اور جلال زمین پر قائم کرنا اور شرک کا بکلی استیصال کرنا اور تمام متفرق فرقوں کو ایک کلمہ پر قائم کر کے اُن کو ایک قوم بنا دنیا ہے۔قرآن شریف میں ہے قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِلى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم جَمِيعًا یعنی لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمام دنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں۔حضرت عیسی بھی سچے تھے اور حضرت موسی بھی۔ان کی تعلیمات میں اُس کے زمانے کا لحاظ رکھا گیا تھا۔اسلام نے افراط اور تفریط کو ختم کر کے مناسب حال تعلیم دی یعنی بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے جو کی جائے ؟ باید