تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 41
ہندوستانی کا مدعا ہونا چاہیے کہ وہ مجوزہ صلح کو عملی رنگ پہنانے کی کوشش کرے (بحوالہ سے یویو آف ریلیجنز اُردو ۱۹۰۸ صفحه ۴۴۰ ۴۴۴۷) ایک غیر مسلم دوست پی پی سنگھ نے سکھا کتاب "پیغام صلح نے مجھ پر حیرت انگیز اثر کیا ہے ہمیں اسلام کو اچھا مذہب خیال نہیں کرتا تھا اسلام کے متعلق مسلمانوں کا جو تھوڑا بہت لٹریچر میں نے مطالعہ کیا ہے اس سے بھی مجھ پر ہی اثر ہوا تھا کہ اسلام جارحانہ مذہب ہے میں اسے کبھی رواداری کا مذہب نہیں سمجھتا تھا جیسا کہ اب سمجھتا ہوں؟ (بحواله الفضل ۲۹ مارچ ۱۹۴۰ء صفحه ۲ کالم ۲) مسربه هم دست ڈیرہ دون نے لکھا یہ چالیس برس پیشتر یعنی اس وقت جبکہ مہاتما گاندھی بھی ہندوستان کے افق سیاست پر نمودار نہ ہوئے تھے (حضرت) مرزا غلام احمد قادیانی ر آپ پر سلامتی ہو نے ۱۸۹۱ ء میں دعوتی سیحیت فرما کہ اپنی تجاویز رسالہ پیغام صلح کی شکل میں ظاہر فرمائیں جن پر عمل کرنے سے ملک کی مختلف قوموں کے درمیان اتحاد واتفاق اور محبت و مفاہمت پیدا ہوتی ہے۔آپ کی یہ شدید خواہش تھی کہ لوگوں میں رواداری اخوت اور محبت کی روح پیدا ہو بے شک آپ کی شخصیت لائق تحسین اور قابل قدر ہے کہ آپ کی نگاہ نے مستقبل بعید کے کثیف پر دے میں سے دیکھا اور صحیح ) راستہ کی طرف رہنمائی فرمائی راخبار فرنٹیئر میل ۲۲ دسمبر ۱۹۴۸ء بحوالہ تحریک احمد میت صفحه ۱۲، ۱۳، مؤلفہ جناب مولوی برکات احمد صاحب