تذکرۃ المہدی — Page 7
تذكرة المهدي حصہ اول پئیں تو ہمارا کیا بگڑتا ہے انجن میں سے بھی تو دھواں لکھتا ہے ہر قوم میں دانا اور عقلمند شریف الطبع لوگ بھی ہوتے ہیں جو اچھی بات کو قبول کرتے اور سمجھانے سے سمجھ جاتے ہیں مگر سمجھانے والا حسب تعلیم قرآن مجيد اُدْعُ إِلى سَبِيلِ ريك با ANNOTA KARNE KA TARKAN کے چاہئے پھر میں نے سنار اور کھتری سے کہا کہ حقہ ایسی چیز ہے کہ اگر تھوڑی دیر اس کو بخلاف افیون کے نہ پیا جائے پینے والا مرتا نہیں اور نہ کچھ بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے سوائے اس کے کہ ایک طلب ہوتی ہے جو کچھ عرصہ گزرنے پر طبیعت مانگتی ہے اگر تم اس وقت چلم یا حقہ نہ ہو تو اس میں تمہارا کیا حرج ہے اس میں رفع شر بھی ہے اور ایک لغو کام سے بھی بچتے ہو۔دیکھو ہمارے ایک دوست ڈاکٹر محمد اسمعیل خان صاحب ہیں حقہ بہت ہی کثرت سے پیتے تھے آخر انہوں نے ایک دم چھوڑ دیا ان کا کچھ بھی نہ بگڑا سکھوں میں لاکھوں آدمی ہیں جو حقہ نہیں پیتے ان کو کچھ بھی ضرر اور نقصان نہیں ہے بلکہ بر خلاف تم لوگوں کے زیادہ قوی اور تندرست ہیں حقہ تو حقہ میں نے ایسے افیون پینے والوں کو جو چھٹانک بھر روز کھاتے تھے دیکھا ہے کہ انہوں نے افیون کو ایک دم ترک کر دیا دہ اچھے بچھے ہیں چنانچہ جناب مولانا مولومی سید مجمد سرور شاہ صاحب جب قادیان حضرت امام حمام علیہ الصلوۃ و السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت سے مشرف ہوئے تو ایک دم افیون ترک کردی وہ افیون بھی معتاد سے زیادہ کھاتے تھے۔ان کو کوئی نقصان نہ ہوا۔بلکہ اور زیادہ تندرست اور قوی ہو گئے۔وہ ہندو میری یہ بات سن کر حقہ پینے سے باز رہے اور آگ اور چلم پھینک دی۔بات میں بات یاد آجاتی ہے یہ بھی لکھنا غیر مناسب نہ ہوگا۔کہ حقہ نوشی جن دنوں میں حضرت اقدس امام ہمام علیہ السلام کی طرف سے خطوط کے جواب لکھا کرتا تھا تو من جملہ اور مسائل کے حقہ کی نسبت بھی ہماری جماعت کے احباب دریافت کرتے تھے کہ ہمیں حقہ پینے کی عادت ہے اس کی