تذکرۃ المہدی — Page 31
تذكرة الهدى 31 لكَاذِبُونَ اے رسول ال تیرے پاس منافق آتے ہیں کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ تو جانتا ہے کہ تو ضرور رسول ہے۔لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق انک رسول اللہ کہنے والے کا ذب ہیں۔اب بتلائیے کہ یہ لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے یا اور کام اسلامی ادا نہیں کرتے تھے۔پھر کیوں منافق اور کاذب ان کا نام رکھا گیا اسی طرح ہم بھی تو اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہیں نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں اور بشرط وسعت حج کے لئے بھی تیار ہیں پھر ہمیں کیوں بے دین اور کافر کہتے ہو یہود و نصاریٰ بھی تو روزه و نماز کرتے تھے انبیاء پر ایمان لاتے تھے وہ کافر کیوں ہوئے ابو جہل وغیرہ بھی تو حاجی تھے نماز روزہ کے پابند تھے لیکن وہ کافر کیوں ہوئے اس کا باعث یہ ہے کہ انہوں نے دل سے ایک مامور اعظم محمد مصطفی کو نہیں مانا۔بعینہ اسی طرح تم نے ایک مامور معظم مثل مصطفیٰ صلی اللہ علیما و سلم کو نہیں مانا ہم میں اور تم میں یوں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔تم کذب ہم مصدق منافق کی نشانی علاوہ اس کے ایک اور تین نشان تم میں نفاق کا موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہارا سر منڈا ہوا ہے اور سر اور داڑھی منڈانا منافق کی ایک علامت ہے اس کو سن کر وہ بڑے درہم برہم ہوئے اور کہنے لگے کہ سرمنڈانا تو سنت ہے میں نے کہا کہ یہی تو کھلم کھلا علامت منافق ہے کہ چوری اور سینہ زوری نفاق کی علامت کا نام سنت رکھنا۔اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہا کہ بہت مولوی عالم بلکہ مولوی رشید احمد گنگوہی بھی سرمنڈاتے ہیں میں نے کہا کہ مولویوں کا فعل سنت ہے یا آنحضرت ا کا فعل سنت ہے ایک ملا بول اٹھے اچھا صاحب تم ہی بتلاؤ کہ کس کتاب میں لکھا ہے کہ سرمنڈانا منافق کی علامت ہے۔میں نے کہا کہ مشکوۃ شریف اور صحیح بخاری شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت پر ایک وقت آنے والا ہے کہ لوگ دین سے نکل جائیں گے قرآن شریف پڑھیں گے مگر قرآن ان لکھا۔