تذکرۃ المہدی — Page 295
تذكرة المهدى 295 وہ ہے کہ سب کچھ کر سکتا ہے قدرت اس میں خالقیت اس میں رحمانیت رحیمیت اس میں قدوسیت اس میں اپنے پیاروں اور برگزیدوں سے کلام کرنے کی صفت اس میں غرض ہمہ صفت موصوف ہے اور تمہارے معبود باطل اور کسی صفت سے بھی متصف نہیں ان سے تو انسان ہی بہتر اور اوٹی تر ہے وہ اس سے بھی گئے گذرے ہیں لکم دینکم تم اس نظارہ کو اس حقیقت کو چند روز میں دیکھ لو گے اور اپنے کئے کا نتیجہ بھگتو گے یہ بت وغیرہ تمہاری کوئی مدد کوئی نصرت نہیں کر سکتے فرمایا جس خدا کو آنحضرت ا پیش کرتے تھے کفار مکہ اس خدا کو نہیں مانتے تھے اگر چہ وہ خدا کو مانتے تھے مگر بے کار کو اسی وجہ سے وہ شرک میں گرفتار ہو گئے انہیں کے مقابلہ اور بطلان پر یہ سورۃ نازل ہوئی اور سورۃ الفیل نے بتا دیا کہ آنحضرت ا کا وجود باجود بیت اللہ ہے اور تم لوگ اصحاب فیل کی طرح ہو اور تمہارے معبود نیل اور اور اصحاب فیل سے بھی کمزور۔خدا تعالٰی نے لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِی دِيْنِ سے واضح کر دیا کہ تم اور وہ جن کی تم پرستش کرتے ہو بیچ اور ناکارہ ہیں۔رہی ناسخ و منسوخ ان لوگوں نے اپنی نا کبھی سے بنا لیا۔قومی یا وقتی ناسخ و منسوخ تو جائز ہے۔جیسے ایک بچہ ہے اس کے کپڑے جوانی میں منسوخ ہو جاتے ہیں۔ایک پاجامہ جس کا رومال نہیں ہوتا اور آگے پیچھے سے کھلا پیشاب پاخانہ کے واسطے ہوتا ہے بڑے ہو کر اس کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے اور جو ان آدمی ایسا پاجامہ نہیں پسند کرتا اور پہنتا۔اسی طرح گرمیوں کے کپڑے سردیوں میں اور سردیوں کے کپڑے گرمیوں میں منسوخ ہو جاتے ہیں اس سے سمجھ لو کہ آنحضرت ال سے پہلے جتنی تعلیمیں تھیں وہ وقتی اور زمانی تھیں۔آنحضرت ا اور آپ کی تعلیم کل عالم اور قیامت تک کے لئے ہے اس صورت میں ناسخ و منسوخ کو کیا تعلق ہے۔لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِی دِینِ میں مومن و مشرک کا کھلا فرق بتایا ہے۔اسی طرح اور بعینہ اسی طرح خدا نے ہمیں بھیجا