تذکرۃ المہدی — Page 25
تذكرة المهدي 25 تیسرا مباحثہ ایک وکیل سے وکیل صاحب : آپ کہاں سے دارالامان سے آرہا ہوں۔آرہے ہیں۔سراج الحق : میں وکیل صاحب : اب بھی آپ کا وہی عقیدہ ہے۔سراج الحق : لاحول ولا قوة الا بالله - عقیدت روز بروز درست ہونے کا ہے اور زیارت کا خاص وقت ہے نہ عقیدہ جانے کا وہ کونسی بات ہے جس سے عقیدت وارادت میں فرق آئے۔وکیل صاحب : ایک کتاب نور الحق مرزا صاحب نے جب سے لکھی ہے تب سے میں تو بے عقیدہ ہو رہا ہوں۔سراج الحق : آپ کا پہلے عقیدہ کب تھا۔وکیل صاحب : تھا تو سہی لیکن اب نہیں۔سراج الحق : نہ پہلے تھا نہ اب ہے اگر تھا تو وہ ہونے میں شمار نہیں وہ نقش بر آب کا معاملہ ہے پھر میں نے وہ آیت جو ابھی لکھی گئی ہے پڑھ کر سنائی اور کہا کتاب نور الحق میں ایسی کیا بات ہے جس سے عقیدت میں فرق آگیا۔وکیل صاحب : ہمارے پاس اسلام میں کچھ نہیں تھا۔لے دیکے ایک قرآن شریف تھا جس کو ہم غیر مذہب والوں کے سامنے پیش کیا کرتے تھے اور جب سے نور الحق کتاب مرزا صاحب کی نکلی قرآن شریف بھی ہمارے ہاتھ سے جاتا رہا ہم اس کو بھی پیش نہیں کر سکتے نور الحق کی تحدی کے ساتھ قرآن شریف کی تحدی بھی خاک میں مل گئی۔(معاذ اللہ ) سراج الحق : استغفر الله قرآن شریف نہ پہلے آپ کے ہاتھ میں تھا اور اب تو بقول آپ کے کیوں ہونے لگا نور الحق سے تو قرآن شریف کی عزت دو بالا ہو گئی اور جہاں جہاں قرآن سے لوگوں کی آنکھوں میں خیرگی اور تیرگی تھی وہ اب نور الحق قرآن شریف کے نور نے اٹھادی جس چشمہ سے محمد الرسول اللہ