تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 262 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 262

تذكرة المهدى 262 مضمون کا شائع کیا۔کہ اس چودہویں صدی کا مجدد یہی شخص ہے اور بزرگ اور باخدا ایسے ہوا کرتے ہیں میں نے صدق دل کے ساتھ اس بزرگ خدار سیدہ سے بیعت کی ہے میں بڑے زور سے اعلان کرتا ہوں کہ لوگوں کو چاہئے ان سے مرید ہوں اور میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی بڑی لذت حاصل ہوئی۔تمام عمر میں یہ لذت اور سرور حاصل نہ ہوا تھا ہزاروں اشتہار جابجا تمام ہندو پنجاب میں تقسیم کئے اور قریباً تین سو چار سو اشتہار حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بھیجے کہ آپ ان کو اپنے مریدین میں تقسیم کریں اور ساتھ ہی ایک خط بھی لکھا کہ آپ اس بزرگ سے تعلق پیدا کریں اور مرید بھی ہوں تاکہ آپ کو معرفت ولذت و سردر حاصل ہو اور تا آپ کو معلوم ہو جاوے کہ ولی اللہ اور مجدد کی یہ شان ہوتی ہے اور وہ ایسے ہوا کرتے ہیں مولوی صاحب کا مطلب اس سے یہ تھا کہ مدعی ست گواہ چست- آپ تو وہ شخص نہیں نہیں کرے۔اور مرید اس کو جو چاہیں سو کہیں وہ خدار سیدہ نہیں ہوتے جو آپ اپنی زبان سے کہیں مولوی صاحب سنت اللہ سے نا واقف وہ منہاج نبوت کو کیا جائیں۔اب اللہ تعالی جل شانہ کی دوسری قدرت کا تماشہ دیکھنا چاہئے۔محتل يَوْمٍ هُوَنِي شَانٍ ابھی تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا جو یعنی ایک ماہ کے پورا ہونے کی نوبت نہ پہنچی تھی کہ مولوی محمد بشیر صاحب کا دوسرا اشتہار نکلا اس میں یہ لکھا تھا کہ یہ شخص جس سے میں نے بیعت کی تھی بڑا بد معاش زانی اور اغلام باز ہے میں دھوکے میں آگیا اور اب میں نے اس کی بیعت توڑ دی ہے کیونکہ یہ شریر اور دھوکہ باز ہے اس کے پھندے اور واؤ میں کوئی نہ آوے اور یہ دوسرا اشتہار پہلے اشتہار سے بھی زیادہ شائع کیا اور یہاں تک نوبت پہنچائی کہ جہاں جہاں وہ احمد علی جاتا تھا وہیں وہیں مولوی بشیر کے آدمی بھی اشتہار تقسیم کرتے پھرتے تھے اور کئی سو اشتہار حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بھی ڈاک میں تقسیم کے لئے بھیجے یوں اپنے