تذکرۃ المہدی — Page 94
تذكرة الميدى 94 السلام یہ اس رسول ہاشمی قرشی افضل الرسل سید المرسلین محمد مصطفے نمونہ ہے جسنے ولکم فی رسول الله اسوة الحسنة کا نقشہ کھینچ کر دکھایا اور سچ فرمایا آپ نے کا بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش یب سے نقشہ ہے ترا دل پہ جمایا ہم نے وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا انْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ رات کے ایک بجنے کے قریب ہے نیند کا آرام کا وقت ہے خاکسار کا سخت آواز سے پکارتا ہے۔اور نرمی سے دریافت حال فرمانا اور ایک خادمہ اور ادنی عورت کو جو اسی کام اور خدمت کے لئے بے عذر رہتی ہے اس کو فرماتے ہیں کہ دروازہ کھول دو ثواب ہوگا ہم جیسے ہزاروں خادم اور آپ ایک مرشد اور مرشد ہی نہیں صحیح موعود اور مسیح ہی نہیں بلکہ جُدِی الله فِي حُلل الانبیاء اور ماسوا اس کے آپ رئیس ابن رئیس اور امیر ابن امیر اور دونوں حیثیتیں ایک سے ایک بڑھی ہوئی پھر نرمی اور عاجزی اور مسکینی سے فرماتے ہیں کون ہے صاحبزادہ صاحب ہیں اور پھر کسی قسم کا مال طبیعت پر نہیں اے احمد قادیانی مثیل محمد مدنی تجھ پر اور تیرے متبوع پر ہزاروں لاکھوں کروڑوں بے انتہا درود سلام و صلے اللہ عَلَيْكَ وَ عَلَى مُحَمَّدٍ يَحْمَدُكَ اللهُ مِنْ عَرشِهِ وَ سُبْحَنَكَ الله ادھر آپ کی یہ حالت ادھر حضرت ام المومنین * علیھا السلام جاگ اٹھیں اور کہنے لگیں (حضرت اقدس کی زوج مطہرہ مقدسہ کی نسبت ام المومنین علیها السلام لکھنے کی یہ وجہ پیش آئی کہ اس مرحوم نے ایک دفعہ تحفہ بھیجا اور خط میں مجھے لکھا کہ مادر مومنان کی خدمت میں پیش کر دیتا۔چونکہ خاکسار کو بھی اکثر بیٹا فرمایا کرتی تھیں اس واسطے میں نے یہ حضرت اقدس کی خدمت میں لکھ دیا کہ حضرت ام المومنین علیہما السلام کی خدمت میں یہ تحفہ پیش کردیں حضرت اقدس نے تحریر فرمایا کہ وہ تحفہ جو یوسف علی صاحب نے بھیجا ہے وہ ام المومنین کے پاس پہنچا دیا۔جب اکثر آپ کو ام المومنین کہنے اور پھر لکھنے لگے ایک دفعہ بہت سے مخالفوں نے اعتراض بھی کیا حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ان معترضوں کو معلوم نہیں کہ اگر ان کے ذہنی صحیح آدیں اور وہ شادی کریں تو ان کی بیوی کو یہ ام المومنین کہیں گے یا نہیں۔مَا هُوَ جَوَابُكُمْ فَهُوَ جَوَابُنَا پھر فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں نبی رسول کر کے بھی فرمایا ہے اور جری اللہ فی حل الانبیا فرمایا جب ہم رسول ہوئے نبی ہوئے اور تمام انبیا کے حلوں میں سے ہوئے تو ہماری بیوی ام المومنین ہو ئیں یا نہیں جیسے اور انبیا کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں تھیں۔