تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 82 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 82

تذكرة المهدى 82 یوسف : اچھا مانا لیکن آپ کے خاندان میں کس شے کی کمی تھی۔سراج : ہمارے خاندان میں تو کمی نہیں تھی۔لیکن مجھ میں تو کمی تھی میں تو اس بات کا محتاج تھا اب تم یہ بتلاؤ کہ اب تم سو روپیہ ماہوار کے ملازم ہو اور تم کو پانسو روپیہ ملنے لگے تو تم پانسو لو گے یا سو پر ہی راضی رہو گے۔یوسف : بیشک میں پانسو روپیہ ملتے سو پر کب راضی ہوں گا۔سراج بس یہی مثال ہماری ہم تو ترقی کے خواہاں اور معرفت کے دلدادہ ہیں۔جہاں سے ملے لے لیں گے جب دنیا کے لوگ دلداده دنیا ہیں تو ہم دین کے خواہاں اور خواہشمند کیوں نہ ہوں ترقی تو کسی نے نہیں چھوڑی نبی و رسول بھی چاہتے اللہ تعالٰی نے بھی رسول اللہ ا کو دعا اهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ سکھائی اور پھر تاکید فرمائی قُل رب زدنی علما کہ اے میرے رب میرا علم زیادہ کر وہ کہیں مکتب میں تو نہیں گئے یہ علم تو علم نبوت ورسالت ہی تھا پھر ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پیروؤں کو حکم دیا کہ آپ کے لئے درود و سلام پڑھیں اور خود بھی آپ نے اپنی امت کو درود کا حکم دیا اور درود سبقاً سبقاً سکھائی۔نماز پنجو مکہ میں جنازہ میں عیدین میں اور ہر ایک موقع میں درود پڑھنے کی تعلیم دی خود بھی پڑھی اور سب لوگوں سے بھی پڑھوائی یہ ترقی کی تعلیم ہے یا کیا ہے۔ہمارے جد امجد حضرت قطب الاقطاب قطب جمال الدین احمد ہانسوی رحمتہ اللہ علیہ حضرت امام الائمہ ابو حنیفہ نعمان امام اعظم کی اولاد تھے وہ حضرت شیخ الاسلام فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ سے کیوں مرید ہو گئے حالانکہ فرید الدین گنج شکر حنفی اور مقلد امام اعظم تھے یہی مثال ہماری سمجھو صوفیائے کرام میں بہت سی ایسی نظریں ہیں کہ انہوں نے کئی کئی جگہ بیعت کی۔یوسف : پھر مرزا صاحب سے کیوں بیعت کی اور کسی صوفی و درویش سے جو دنیا میں بہت ہیں بیعت کر لیتے۔