تذکرۃ المہدی — Page 72
تذكرة المهدي 72 موعود کو ایسے حال میں دیکھا کہ غسل کئے ہوئے ہے اور بالوں سے پانی ٹپکتا ہے اور بالوں میں شانہ ہوا ہے یہ صحت کی طرف اشارہ ہے۔سو خدا نے ہمیں دونوں کے دیکھنے کا موقع دیا ہے۔ایک روز عباس علی نے کہا کہ آپ زیادہ باتیں کرتے ہیں اور مخالفوں کی نسبت ایسے لفظ کہتے ہیں کہ جن سے ان کی پردہ دری ہوتی ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ حق بات تو کسی جاتی ہے اس میں اگر کسی کی پردہ دری ہو تو ہم کیا کریں ہم پر اللہ تعالیٰ کی دو قسم کی وحی ہوتی ہے ایک خفی اور دوسری جلی۔جلی وحی تو وہ ہے جو صاف صاف الفاظ میں ہوتی ہے اور دوسری وحی خفی وہ ہے جو ہر وقت ہوتی ہے جس سے ہمارا چلنا پھرنا بیٹھنا اٹھنا۔بات کرنا ہے ہم ہر وقت اس کے بلائے بولتے ہیں اور اس کے چلائے چلتے ہیں اور اسی کے بٹھائے بیٹھتے ہیں غرض ہر ایک حرکت و سکون اسی سے اور اسی کے حکم سے ہے۔بعد نماز مغرب میں نے اپنے جائے قیام پر جانے کی اجازت چاہی حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا اور نہایت اصرار سے فرمایا کہ وہاں جا کر کیا کرو گے تم تو صاحبزادہ صاحب ہمارے مہمان ہو ہم سے ملنے آئے ہو خاکسار نے عرض کیا کہ اب تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام اجازت دیدیں۔حاضر خدمت ہر روز ہو تا رہوں گا حضور کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا ہوں۔اور یہی مقصد ہے دوسری جگہ ٹھرنے سے میری یہ غرض ہے کہ وہاں ہر ایک طرح کا شخص ملنے کے لئے آئے گا۔بخلاف حضور کے در دولت کے تو وہاں حضور کی بعثت کا بیان اور جناب کے مقاصد کی تبلیغ بھی ہوتی رہے گی۔پس آپ نے مجھ کو اجازت دے دی اور میں خدمت والا سے رخصت ہو کر نواب علی محمد خان صاحب مرحوم کی کوٹھی پر چلا گیا۔نواب صاحب موصوف نواب علی محمد خان مرحوم لودھیانوی حکمت اور تصوف میں