تذکرۃ المہدی — Page 71
تذكرة المهدي 71۔کہ جیسے ہلدی میں کپڑا رنگا ہوا ہوتا ہے اور دوران درد سر اور پیشاب کی کثرت تھی جب آپ پیشاب کرتے تو پانی کا لوٹا پاخانہ میں ساتھ لے جاتے اور پاخانہ سے باہر اگر کبھی تو اسی پانی سے جو استنجہ سے لوٹے میں بچتا اور کبھی اور پانی لیتے اور بایاں ہاتھ مٹی سے مل کر دھوتے تھے اور ان دنوں باعث ضعف و کمزوری بیٹھ کر اور گاؤ تکیہ پر سر اور بانسہ رکھ کر سجدہ کرتے تھے اس ضعف و ناتوانی اور شدت مرض میں بھی نماز باجماعت ادا کرتے اور جب مردانہ مکان سے زنانہ میں تشریف لے جاتے تو ایک آدمی ساتھ ہوتا تھا کہ کبھی راستہ میں باعث دوران درد سر چکر کھا کر نہ گر پڑیں اکثر ضعف سے پسینہ پسینہ ہو جاتے لیکن تقریر اور تحریر کے وقت خدا جانے کہاں سے طاقت آجاتی تھی اور دماغ میں قوت اور آنکھوں میں روشنی پیدا ہو جاتی تھی یہ سب روح القدس کی تائید تھی ایک اور بالا ہستی تھی جو یہ کام ایسے ضعیف اور ناتواں انسان سے لے رہی تھی حدیث دمشقی میں جو صحیح مسلم میں ہے آیا ہے کہ مسیح موعود زرد رنگ کپڑوں میں نزول فرمائے گا اور وہ جب نیچی گردن کرے گا تو قطرات موتی کے دانوں جیسے اس کے چہرہ سے گریں گے یعنی وہ بیمار ہو گا اور اس قدر نقیہ اور ضعیف ہو گا کہ پسینہ کے قطرے باعث ضعف اس کے چہرے سے ٹپکیں گے اور جب وہ منہ اوپر اٹھائے گا تو اس کے چہرہ سے نور نمایاں ہو گا اور کافر اس کے سانس سے مریں گے یعنی او پر منہ کرنے سے توجہ الی اللہ اور دعا کا مطلب ہے اور سانس سے کافروں کا مرنا اس کے کلمات طیبات ہیں کہ اسکی دلائل بینہ اور براہین ساطعہ سے مطلب ہے سوایسا ہی ہوا۔کئی بار حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ اللہ کبھی وہ دن بھی آئے گا کہ ہم کھڑے ہو کر نماز ادا کریں گے سو وہ دن بھی خدا نے دکھایا کہ آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے اور وعظ اور عید کا خطبہ کھڑے ہو کر پڑھتے اور بیان کرتے تھے چنانچہ متفق علیہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول خدا ا نے مسیح