تذکرۃ المہدی — Page 70
تذكرة المهدى 70 ۱۸۸۲ء سے حضرت اقدس علیہ السلام نماز با جماعت کی پابندی کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اس وقت کچھ کسی قدر ریش و بروت آیا تھا تب سے وفات کے کچھ ماہ پیشتر تک حاضر خدمت رہا ہمیشہ نماز با جماعت کا حضرت کو پابند پایا اور جب حضرت اقدس علیہ السلام نماز پڑھتے خواہ مسجد میں یا مکان میں یا جنگل میں اذان ضرور کہلواتے۔حالانکہ لودھیانہ میں جس مکان میں حضرت کا قیام تھا اس کے قریب ہی مسجد تھی اور اس مسجد میں برابر اذان ہوتی تھی لیکن پھر بھی آپ اذان نماز کے وقت دلوا لیتے ایک نے عرض کیا کہ حضرت مسجد میں اذان ہوتی ہے اور اس کی برابر آواز یہاں اس مکان میں پہنچتی ہے وہی اذان کافی ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے شخص فرمایا نہیں اذان ضرور دو۔جہاں نماز وہاں اذان ضروری ہے۔ایک شخص نے عرض کیا کہ اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں کیوں دیتے ہیں فرمایا اس میں حکمت یہ ہے کہ کان میں انگلی دینے سے آواز کو قوت ہو جاتی ہے پہلے آنحضرت الی کے زمانہ میں اذان بغیر کانوں میں انگلی دئے دیا کرتے تھے۔ایک روز حضرت بلال کی آواز میں آپ نے ضعف پایا تو فرمایا بلال کانوں میں انگلی دے کر اذان کہو سو بلال نے ایسا کیا تو آواز میں قوت پیدا ہو گئی اور ضعف جاتا رہا پھر یہ فعل حسب فرمودہ آنحضرت ا سنت ٹھر گیا۔پھر فرمایا که اکثر گویوں اور کلامتوں کو دیکھا گیا ہو گا کہ وہ گانے کے وقت جو اونچی اور بلند آواز اٹھاتے ہیں تو کان پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں تاکہ آواز کی کمزوری جاتی رہے اور قوت پیدا ہو جائے یہ کہہ کر اور میری طرف دیکھ کر ہنسے شاید اس واسطہ ہے کہ میں اس زمانہ میں قوالی سنا کرتا تھا۔ان دنوں جناب شاہزادہ عبدالمجید صاحب دو زرد چادروں کی تعبیر امامت کرایا کرتے تھے اور حضرت اقدس علیہ السلام نہایت کمزور نحیف اور ضعیف ہو رہے تھے رنگ آپ کا ایسا زرد تھا