تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 305 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 305

تذكرة المهدي 305 میں 9ھ میں قادیان بالکل ہی آگیا اور اس سے پہلے میں جہاں رہا آٹھویں دسویں دن عریضہ لکھتا رہا اور حضرت اقدس علیہ السلام کی کتابوں کا میں مہتمم تھا روزانہ دو دو تین تین عریضے لکھتا رہا اور حضرت اقدس علیہ السلام کے خطوں کا جواب بھی میں لکھتا رہا کبھی مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم آتے وہ جواب دیتے درنہ میں ہی ڈاک کا منتظم اور جواب دینے پر مامور رہا دن میں کئی کئی رقعے لکھنے پڑتے تھے سب میں الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ یا یا نبی اللہ لکھا کرتا تھا او رجو مهمان آتا اس کی اطلاع بھی بذریعہ رقعہ دی جاتی اور آپ کبھی باہر تشریف لے آتے اور کبھی مہمان کو اندر بلا لیتے غرض جیسا موقع ہو تا ویسا کرتے۔ایک شخص بمبئی سے میمن سیٹھ آیا اور پانچ سو روپیہ نقد لایا اور آتے ہی مجھے سے کہا کہ میں حضرت کی زیارت کی غرض سے آیا ہوں اور ابھی واپس جاؤں گا زیادہ مجھے فرصت نہیں ابھی اطلاع کردو کہ آپ باہر تشریف لاویں اور میں زیارت کرلوں۔میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں رقعہ لکھا اور سارا حال اس شخص کا لکھ دیا آپ نے یہ تحریر فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب ان کو کہہ دو کہ ہمیں اس وقت دینی کام ہے ہم اس وقت نہیں مل سکتے ظہر کی نماز کے وقت انشاء اللہ ملاقات ہو گی۔اس سیٹھ نے کہا کہ مجھے اتنی فرصت نہیں کہ میں ظہر تک ٹھہروں میں نے پھر لکھا کہ وہ یوں کہتا ہے پھر آپ نے جواب نہ دیا اور چلا گیا ظہر کے وقت جب حضرت اقدس علیہ السلام مسجد مبارک میں رونق افروز ہوئے بعد نماز ایک شخص نے ذکر کیا کہ ایک میمن سیٹھ بمبئی سے حضور کی زیارت کے لئے آیا تھا اور پانچ سو روپیہ نذرانہ لایا تھا۔فرمایا ہمیں اس کے روپیہ کی کیا غرض جب اس کو فرصت نہیں تو ہمیں کب فرصت ہے جب اس کو خدا کی غرض نہیں تو ہمیں دنیا کی کیا غرض ہے۔میرا مطلب اس جگہ رقعوں کی تعداد کی طرف ناظرین کو توجہ دلانے کا ہے اور نیز یہ مقصد ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے کبھی بھی اشارہ یا کنا معتہ یا ره