تذکرۃ المہدی — Page 290
تذكرة المهدى 290 حصد بالا خانہ کے نیچے کھڑا کر دیا اس جھل مل جھل مل روشنی دنور کی شعاعوں میں معلوم ہوا کہ یہ دو شخص دو فرشتے اور اس مکان میں اللہ تعالیٰ جل شانہ و عم نوالہ ہے اور یہ سب اسی کی تجلی ہے میں مؤدب دست بستہ کھڑا ہو گیا اور نیچے کی طرف نگاہ رکھی ہاں کبھی کبھی اس تجلی اٹھی کی طرف کچھ یوں ہی سی نظر اٹھا کر دیکھ لیتا تھا۔میں اور وہ دو نو فرشتے وہاں کھڑے رہے اندر سے آواز آئی کہو ا شْهَدُ اَنْ ANTAL ANWALA N اللہ میں نے کہا اشهَدُ أَنْ لا إله إلا الله پھر فرمایا تو حید کو میری قائم کرو۔توحید مجھے محبوب ہے غرض اسی طرح ایک لمبے عرصہ تک یہ وعظ فرمایا ہر جملہ کے ساتھ توحید کا لفظ تھا میرے پیر نہیں تھکے اور نہ میں گھبرایا ایک لذت ایک سرور اور انشراح مجھے حاصل تھا اور میں ذوق و شوق اور طمانیت قلب اور روح سے یہ سب سنتا رہا پھر یہ نظارہ غائب ہو گیا۔وہ تمام وعظ لفظ بلفظ مجھے یاد تھا میں نے اپنی یادداشت اور حافظہ پر بھروسہ کر کے یہ خیال کیا کہ اب اذان تو ہو گئی ہے بعد نماز کے سب لکھ لوں گا مگر افسوس مجھے یاد نہ رہا۔اگر میں اسی وقت لکھ لیتا تو لکھ ہی لیتا۔خیر جو اللہ تعالٰی کو منظور تھا وہی ہوا اور میرا حافظہ اور ذہن کام نہ۔آیا پھر میں تازہ وضو کر کے مسجد میں گیا ابھی دو سنت ہی پڑھی تھیں جو حضرت اقدس علیہ السلام تشریف لے آئے نماز پڑھ کے بیٹھ گئے آپ کی اکثر عادت تھی که بعد نماز فجر دن نکلنے تک بیٹھے رہتے اور دینی باتیں جن میں تعلیم وہدایت اور معرفت و رشد کے متعلق ہوتی تھیں اور اپنے الہام اور رویاء بھی سناتے اور لوگوں کے خواب سنتے میں نے بھی یہ واقعہ آپ کو سنایا غور سے سنتے رہے اور فرمایا بہت ہی اچھا ہے خدا تعالی مبارک کرے اور بیش از بیش انعام عطا فرمائے۔فرمایا کیا اچھا ہو تا کہ اسی وقت لکھ لیتے ہمیں بھی ایک دو دفعہ ایسا ہی ہوا کہ بعض باتیں ہمیں خدا کی طرف سے معلوم ہو ئیں ہم نے اپنی یاد اور حافظہ پر بہت بھروسہ کر کے خیال کیا کہ دن کو لکھ لیں گے مگر وہ باتیں یاد سے اتر گئیں اب ہم