تذکرۃ المہدی — Page 286
تذكرة الحمدى 286 اب ساتھ چلتا ہوں مجھے دس روپیہ دو میں لے کر جاؤں گا بار بار کہا کہ میں لے کر جاؤں گا آپ نے فرمایا نہ اب اس وقت میرے پاس روپیہ نہیں اور نہ گھر پر ہیں خدا تعالیٰ بھیج دے گا ہم فورا دیدیں گے بمشکل تمام اس لڑکے کو ٹالا - ایک دفعہ کسی نے ایک پارسل حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجا جب پارسل کھولا تو اس میں ایک ٹوپی خوبصورت اور قیمتی تھی دو ہندو نوجوان بھی بیٹھے تھے ایک نے اس ٹوپی کی بہت تعریف کی اور ہاتھ میں لے کر بار بار دیکھتا رہا آخر حضرت اقدس علیہ السلام نے وہ ٹوپی اس کو ہی دیدی وہ لے کر خوش خوش چلا گیا۔مجھ سے مخاطب ہو کر آپ نے فرمایا صاحبزادہ صاحب یہ ٹوپی اس کو پسند آگئی تھی جبھی تو یہ بار بار تعریف کرتا رہا ہمارے دل نے یہ گوارا نہ کیا کہ اس کو تکلیف پہنچے اس لئے ہم نے بشرح صدر ٹوپی دیدی خدا نے ہمارے پاس ٹوپی بھیجی اور بھیج دے گا اگر ہم اس کو یہ ٹوپی نہ دیتے تو اس کو رنج پہنچتا تالیف قلوب بھی تو ایک چیز ہے۔بروز دو شنبه بعد از نماز ظهر حضرت مسیح موعود مهدی معہود علیہ السلام کو یہ الهام هوا ا مِدُّ وَ اليْلَةُ أَزْهَى اليَا لِی یعنی اس رات کو عبادت تسبیح تعلیل نمیر اور درود و استغفار غیرہ میں شاغل رہو کیونکہ یہ رات تمام راتوں سے افضل اور خوبصورت تر ہے سو اس الہام کے مطابق جو احباب موجود تھے بعض ان میں سے رات کو جاگے اور عبادت الہی کی یعنی وہ رات جو شام سے دو شنبہ کی شروع ہوئی یعنی شب سه شنبه ۲۷ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ مطابق ۳۱ جولائی ۱۸۹۴ء و مطابق ۱۵ سادن ۱۹۵۱ بکرمی حضور مسیح موعود علیہ السلام کے حکم سے لکھا گیا جو فرمایا تھا کہ کہیں یاداشت لکھ رکھو فقط خاکسار نے یہ رجسٹر میں حسب الارشاد لکھ لیا تھا جو کہ اب میں نے لکھ دیا۔ایک روز حضرت اقدس علیہ السلام سیر کے لئے تشریف لے چلے ابھی تھوڑا دن چڑھا تھا سردی کا موسم تھا پندرہ سولہ احباب ساتھ تھے پھر پیچھے سے اور بہت