تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 26 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 26

تذكرة المهدى 26 حصہ اول نے پانی پیا اسی چشمہ سے احمد مہدی احمد مسیح علیہ السلام نے پانی پیا۔جب ایک تحدی ہمارے ہاتھ میں تھی اور اب دو تحدیاں ہو گئیں جو سردار ایک کام کرے اور اس کا غلام بھی کرے تو اس سردار کی عزت جاتی ہے یا بڑھتی ہے باپ بیٹے کا کام تو دو نہیں ہو سکتے بیٹے کے کام سے باپ خوش ہو گا یا ناراض آپ تو جانتے ہی ہیں کہ غلام در اصل بیٹے کو کہتے ہیں اور کسی کا مصرعہ ہے۔اگر پر رنہ تواند پسر تمام کند سو یہاں تو بیٹے نے بھی کیا اور باپ نے بھی اس میں نقصان کیا ہوا۔آپ تو تصوف میں بھی دم بھرتے ہیں کیا متصوفین کا خصوصاً اور عامہ مسلمین کا عموماً یہ عقیدہ نہیں ہے کہ كَرَامَةُ الْوَلِي مُعْجِزَةُ النَّبِيِّ - ولی کی کرامت نبي کا معجزہ ہے۔اور جو معجزات اور خوارق عادات رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں نہیں آئے وہ آپ کے متبعین اولیاء اللہ سے صادر ہوئے اور ہو رہے ہیں اور ہوں گے۔وکیل صاحب : نہیں صاحب نہیں یہ تو ایسی مثال سمجھئے کہ جیسے کوئی کسی کی پگڑی مین بازار میں اتار لے اور کہے کہ میں تو تیرا دوست ہوں۔سراج الحق : نہیں صاحب نہیں یہ تو ایسی مثال ہوئی کہ باپ نے ایک محل بنایا اور بیٹا بعد از وفات کھڑا ہوا اور اس کو اور عمدہ جلا دی غور کیجئے کہ شاہ جهان بادشاہ نے جامع مسجد دہلی بنوائی اور مسجد تو تمام ہو گئی لیکن اس کے صحن کے دالان باقی رہ گئے تھے وہ اس کے بیٹے یا پوتے نے بنوادی اب آپ کہیں کہ مسجد خراب کردی برباد کر دی شاہ جہان کا نام ڈبو دیا مسجد دیکھنے کے قابل نہیں رہی۔بدصورت ہو گئی اور اب تھوڑے روز کا ذکر ہے کہ نواب رامپور کلب ملیحان نے اس جامع مسجد کی مرمت کے لئے ایک لاکھ روپیہ کے قریب بھیجا اور مرمت کرائی اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ مرمت نہیں ہوئی بلکہ ڈھائی پھوڑ دی فرش بگاڑ دیا۔اور دیواروں میں جو اور عمدہ اور پہلے سے بھی خوشنما پتھر لگا دیئے یہ