تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 247 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 247

تذكرة المهدي 247 حسینی کو سناتا پھرتا ہے یہ ان کو خبر نہیں کہ یہاں تفسیر کبیر وغیرہ کو کوئی نہیں دیکھتا لیکن سوائے پانچ سات راویوں کے کوئی ثقہ صادق عادل ایسا رادی نہیں جو مسیح کی حیات کو بیان کرتا ہے۔لوگوں کو یہ بڑا دھوکا لگا ہوا ہے کہ ہر ایک کتاب میں جو پانچ سات رادیوں کی روایت مکررسہ کر ر ہیر پھیر کر کے مسیح کی حیات میں بیان کی گئی ہیں ان کو بڑے وثوق سے بیان کیا کہ بے شک جمہور اسی پر ہیں اور اجماع امت اسی پر ہے کہ مسیح زندہ آسمان پر ہے حالانکہ ان کل کتابوں میں یہی پانچ سات راوی ہیں جو ادنی درجہ کے ہیں اور جو اعلیٰ درجہ اور عظیم الشان طبقہ کے علماء و فضلع ہیں ان میں سے ایک راوی حیات مسیح میں نہیں وہ سب وفات کی طرف گئے ہیں جیسے کل صحابہ کا اجماع آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت مسیح کی وفات پر ہوا اور پھر ائمہ اربعہ حضرت امام مالک اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ اور امام شافعی اور امام احمد جنبل اور ائمہ ستہ حدیث مثلاً بخاری و مسلم وغیرہ یہاں تک کہ صاحب مشکوۃ نے بھی کوئی حدیث صحیح تو الگ ضعیف بھی مسیح کی حیات میں نہیں لکھی اور جو بڑے عالم ہوئے انہوں نے بھی حیات کا انکار اور وفات کا اقرار کیا ہے چنانچہ میں اپنے رسالہ مسمی سراج الحق حصہ سوم چهارم پنجم میں اس بات کو خوب مفصل ثابت کر چکا ہوں۔پس حضرت اقدس علیہ السلام کا مجمع جہلا میں نہ جانا ان کی جھوٹی فتح کا نقارہ بج گیا ان کے پر افترا کار روائی کی نوبت گونج اٹھی لیکن پھر بھی حضرت اقدس علیہ السلام نے اہل دہلی کا پیچھا نہ چھوڑا اور دو تین اشتہار شائع کئے اہل دہلی نے جب مشورہ کیا کہ ہمارا کیا کرایا منصوبہ جاتا رہے گا اور ہمارا سب کام بگڑ جاوے گا مرزا کے اشتہار چھپوانے بند کردو۔تب سب کے مشورہ سے مطبع والوں نے حضرت اقدس علیہ السلام کا اشتہار چھاپنا بالکل بند کر دیا۔اب بڑی مشکل پڑی۔اور حضرت اقدس علیہ السلام دعاؤں میں لگ گئے۔-