تذکرۃ المہدی — Page 225
تذکرة انوری 225 حصہ اول کے پاس گئے یہ صاحب میرے والد کے مرید اور وظیفہ خوان تھے میں نے کہا منشی صاحب تم میرے والد کے مرید ہو اور ہمیشہ ان کی محبت اور اپنی ارادت کا خلوص ظاہر کیا کرتے تھے ہمیں کتابوں کی ضرورت ہے تم کسی سے اپنی معرفت لے دو نشی صاحب نے کہا مجھے خوب معلوم ہے کہ آپ مرزا صاحب کے ارادتمند ہیں مرزا صاحب کے واسطے کتابوں کی ضرورت ہو گی۔کتابوں کا ملنا محال ہے اس شہر میں یہ عہد ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب کو کوئی کتاب نہ دی جائے میں اس میں مجبور ہوں بس اتنا ہی اس وقت ادب کافی ہے کہ آپ تشریف لے جائیں اور زیادہ نہ ٹھہریں۔پھر ہم دونوں حیران و پریشان شرقی منارہ کے نیچے کھڑے ہو گئے اور ہم آپس میں کہنے لگے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ ارشاد ہے اور لوگوں کا یہ حال ہے اب کریں تو کیا کریں۔جو کام اللہ تعالٰی کو کرنا ہوتا ہے اس کے اسباب و سامان بھی وہ اپنی قدرت سے بہم پہنچا دیتا ہے۔کنی و خود کنانی کار را خود وہی رونق تو آں بازار را یکا یک اللہ تعالٰی نے میرے دل میں یہ ڈالا کہ بہرام خان کے ترا ہے کے قریب کوچه سعد اللہ خان میں ایک صاحب نقشبندی حاجی علیم اللہ صاحب رہتے ہیں اور وہ میرے والد سے اور نیز مجھ سے بھی بڑے عقیدت مند اور بوڑھے جہاں دیدہ ہیں آؤ انکے پاس چلیں۔شاید ان سے یا انکی معرفت کسی اور سے کتابیں مل جائیں مگروں میں دھڑ کا اور خوف کہ مبادا وہاں بھی ایسے ہی یا اس سے زیادہ کوئی واقعہ پیش نہ آجائے خیر تن به تقدیر ہم دونوں انکے مکان پر پہنچے اور ڈرتے ڈرتے دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونک مارتا ہے ایک آواز دی دو آواز وی تیسری آواز پر حاجی صاحب تشریف لائے اور فرمایا میں عشاء کی نماز پڑھ رہا تھا اس واسطے دیر لگی بڑے شریفانہ طور سے خاطر سے تواضع سے حسب دستور :