تذکرۃ المہدی — Page 224
تذكرة المهدى 224 وہ الہام سے کتابوں کی عبارت معلوم کر سکتا ہے۔نعمانی : سب کام الهام پر نہیں رکھے گئے دیکھو آنحضرت ا سے یہودیوں کا اونٹ کی حلت و حرمت میں مباحثہ ہوا تو اللہ تعالٰی نے کوئی عبارت ان کی کتاب کی الہانا نہیں جتلائی۔بلکہ یہ فرمایا کہ ان سے کہو فاتوا بالتَّوْرمةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ توریت لاؤ اور پڑھ کر سناؤ کہاں اونٹ حرام ہے اگر تم سچے ہو۔الهام بجائے خود ہے اور کتابیں بجائے خود ہیں الہام الہی نے تو ظاہر کر دیا بتلا دیا کہ تم لوگ خائن ہو کاذب ہو محرف ہو یہود خصلت ہو مسیح زندہ نہیں مر چکا اب تمہاری اڑ پر تمہاری کتابیں تمہارے سامنے رکھی جاتی ہیں اور تمہاری خیانت دکھائی جاتی ہے وہاں کتاب توریت منگائی گئی اور پڑھنے کا حکم دیا ہے یہ نہیں فرمایا کہ اے رسول ا وحی سے خبر دیدو اور وحی سے انکی کتاب کی عبارت پڑھ دو مسلمات خصم سے خصم ساکت ہو سکتا ہے چونکہ جو کتابیں تمہارے مسلمات سے ہیں انہیں مسلمات سے بحث کی جائے گی اور سند میں پیش کر کے تمہارے افترا اور کذب اور خیانت سے تم کو مطلع کیا جاوے گا مولوی صاحب کو سخت غصہ آیا اور گالیاں دینے لگے اور بڑا شور و غل مچایا اور کہا ارے کوئی محلہ میں ہے جو ان دو شخص مرتد اور محمد مرزائیوں کی خبر لے میں تو وہاں سے چلدیا اور منشی صاحب تو بحث کے لئے وہیں ڈٹ گئے۔نعمانی منشی صاحب آؤ چلو ان لوگوں کے تیور بدلے ہوئے ہیں یہ وقت گفتگو کا نہیں ہے جانے دو مگر جب دو چار آدمی اور گالیاں دیتے ہوئے آئے تب نشی صاحب وہاں سے چلے۔جامع مسجد (منارہ و مشقی شرقی) کے نیچے کھڑے ہو کر ہم نے مشورہ کیا کہ اب کہاں جائیں پھر میں اور نشی ظفر احمد ان مولویوں کی یہودانہ حرکات پر افسوس کرتے ہوئے ایک فشی احمد حسین صاحب بنتی جامع مسجد کے قریب رہتے تھے ان