تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 203 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 203

تذكرة المهدي 203 اول عین موت کے وقت تک کی میں نے بھی دیکھی ہے اور میری اس سے ملاقات تھی خدا کو نہیں مانتا تھا رسول کا تو کیا ذکر ہے شروع بات یہ ہوئی کہ جب حضرت اندس علیہ السلام کا دعویٰ مجددیت کا اعلان ہوا اور لوگ دور دور سے آنے لگے تو اس کے بھی جی میں آئی کہ ہم بھی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا ئیں جیسے کہ حضرت اقدس مشہور و معروف ہو گئے ہم بھی ہو جاویں گویا خدائی میں اندھیر سمجھا کہ اندھا راجہ پھوٹی نگری بس اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔اور سوچا کہ ہندو مسلمان عیسائی تو اہل علم ہیں عظمند ہیں رہے چہار سو وہ بھی ہندؤں میں شامل ہیں ایک قوم خاکروبوں کی ہے شاید ان میں پٹری جم جائے بس اس نے جھٹ پٹ ایک اشتہار دیدیا جس میں اپنے آپ کو لال گرو کا پیرو بتایا خاکر دب بیچارے بے عقل تو تھے ہی وہ معتقد ہو گئے اور نذر نیاز آنے لگی ان کو دس احکام کی تعلیم دی جو توریت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملے تھے اس وقت کھلم کھلادہر یہ نہیں تھا کہ بلکہ وجودی تھا ایک درویش ضعیف العمر جس کو میں نے دیکھا ہے وہ سخت وجودی تھا اور ایک پستہ قد چگی ڈاڑھی پتلا دبلا بے علم تھا اس کی صحبت اس نے اختیار کی رفتہ رفتہ وہر یہ ہو گیا چنانچہ اس کے آخری رسالوں سے ثابت ہے۔ایک روز مولوی امام علی صاحب علمی اکسٹرا اسٹنٹ نے ایک خاکروب سے دریافت کیا کہ تم خاکروب ہو خاکروبوں میں سے تمہارا پیشوا ہونا چاہئے تھا اس نے کہا نہیں جی پہلے بھی لال بیگ مغل تھا اور اب مغل ہونا چاہئے جو یہ امام الدین بیگ ہے یہ تو مغلوں کا ہی حق ہے جب خاکروب زیادہ آنے لگے مردار خواری ان سے چھڑانی چاہی چند مخصوں نے چند روز کے لئے چھوڑ دی تھی جب کام نہ چلا تو پھر کھانے لگے پھر اس نے گول چبوترہ بنایا وہ مسجد لال بیگیان قرار پائی اور یہ حکم دیا کہ دو وقت عبادت کے طلوع و غروب آفتاب ہیں پس دو بار انہی وقتوں میں نماز پڑھنی چاہئے اس گول چبوترہ کے بیچ میں ایک جھنڈا نصب کیا اس کے پاس امام کھڑا ہوتا تھا اور چاروں طرف گول حلقہ باندھ کر