تذکرۃ المہدی — Page 193
تذكرة المهدي 193 حصہ اول ساتھ ہوتا کہ انگریزوں سے جہاد کریں وزیر محمد نے کہا کہ ہم کو جہاد کی کون سی ضرورت پیش آئی ہمارے احکام اسلام یا تبلیغ اسلام میں کوئی روک ہے یا ہم اپنے دین کو پھیلا نہیں سکتے ہمیں کس چیز کی دقت اور مشکل ہے خدا کے فضل سے بہ نسبت بادشاہ اسلام ہمیں ہزار درجہ اس انگریز راج میں آرام ہے اگر جہاد کا وقت ہوتا اور خدا تم کو سچا مہدی بناتا تو خود بخود سامان جہاد بھی ہو جاتا تم کوئی دیوانے ہو جو ہمیں جہاد کی اشتعالک دیتے ہو جو خدا و رسول کے خلاف ہے اور اب جہاد وہاد کچھ نہیں امن چین آرام کے دن ہیں پھر وہ چلا گیا اور اس کا پھر پتہ نہیں لگا کہ کہاں گیا زمین نگل گئی شیر بھیڑیا کھا گئے مر گیا۔کیا ہوا۔() ایک شخص سید اصغر علی نام ریواڑی میں تھا۔وہ میرا دوست تھا اور وہ رافضیوں کی صحبت میں رہ کر تفضیلیہ ہو گیا تھا اور رفتہ رفتہ والضی بن گیا تھا اس کو ابتدا سے فطرت مانیہ تھا پھر اس کو خون مالیھو لیا ہو گیا میں جب ریواڑی گیا تو مجھ سے کہنے لگا کہ اب کے سال امام مہدی ظاہر ہو جا دیں گے اور اسی سال میں ان کا ظہور ہو گا۔اور وہ حج بھی کریں گے اور گھیعص سے عجیب عجیب قسم سے عدد نکال کر تاریخ اور سال مہدی بتلایا کرتا تھا اور وہی سن و سال بتلایا کہ جن میں حضرت اقدس علیہ السلام نے دعوئی مہدویت اور مسیحیت کا کیا میں نے کہا ابھی ایک سال تک تو مہدی مسیح نہیں آسکتے اور یہ میرا خیال جب پیدا ہوا کہ جب حضرت اقدس علیہ السلام نے دعوئی مجددیت کیا کیونکہ ایک مجدد کو جب سو برس گزر جاویں تو تب اور مجدد ہو جب چودہویں صدی کے مجدد حضرت اقدس علیہ السلام ہو گئے تو اب مہدی و مسیح کا ہوتا تو محال ہوا۔اور ان کی ضرورت نہیں ہے پندرھویں صدی پر بات جاپڑی میں نے کہا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مجدد چودہویں صدی ہو گئے اگر مہدی و صحیح آئے بھی تو پندرہویں صدی پر آومیں گے اس نے کہا کہ مرزا صاحب ہرگز مجدد نہیں ہیں مہدی و صحیح اسی چودہویں صدی میں اسی سال میں جو چودھویں صدی کا چہارم سال ہے آجادیں