تذکرۃ المہدی — Page 183
تذكرة المهدي 183 توفیق دی اپنی ذات اور صفات کا علم دیا۔ولی اللہ اس کو کہتے ہیں جو اوامر و نواہی کا پابند ہو اس کے کرنے سے جو نتیجہ ہوتا ہے اس کا نام کشف و الہام اور دیدار الہی یا لقاء اللہ کہتے ہیں انسان کا فرض یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اختیار کرے پھر جو اس پر اس کا نتیجہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے وہ عنائیت فرما دے گا ایسے محروموں اور مجنونوں سے الگ رہنا مناسب ہے اگر چہ پاس ہو تو سوال کرنے پر دیدے ورنہ الگ رہے اور خدا تعالیٰ کا شکر کرے کہ ہمیں محروم نہیں کیا اور بے نصیب نہیں کیا نماز ایسی چیز ہے کہ سب مراتب ولایت اور قرب اللی کے مدارج اس میں طے ہو جاتے ہیں افسوس لوگوں نے نماز کو تو چھوڑ دیا اور بے ہودہ وظائف کے پیچھے پڑگئے نماز ہی سے انسان خدا سے ملتا ہے اس کو بہت سنوار کر پڑھنا اور زیادہ اہتمام کرنا چاہئے نماز کو جس قدر درستی اور آہستگی سے پڑھو گے اتنا ہی خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرو گے اور خداتعالی کو نزدیک پاؤ گے دعاء سیفی حزب البحر قصیدہ غوطیہ وغیرہ سے جو وظائف لوگوں نے نکالے ہیں وہ سب اختراع بدعت ہے جتنی دیر وظیفوں میں صرف ہو اتنی دیر نماز میں لگانی چاہئے خشوع و خضوع سے نماز پڑھنا اور قرآن شریف ترتیل سے اسی قدر زیادہ فائدہ مترتب ہو گا۔ایک روز ایک دلائل الخیرات کا ورد شخص نے سوال کیا کہ دلائل الخیرات کا درد اور پڑھنا کیسا ہے فرمایا ولائل الخیرات میں جتنا وقت خرچ ہو اگر نماز اور قرآن شریف کی تلاوت میں خرچ ہو تو کتنا فائدہ ہوتا ہے یہ کتابیں قرآن شریف اور نماز سے روک دیتی ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا کلام اور حکم ہے۔اور انسانوں کا بناوٹی وظیفہ ہے فرمایا قرآن شریف کی آیتوں اور سورتوں کا بھی لوگ وظیفہ کرتے ہیں اور یہ بدعت ہے اور نا کبھی سے ایسا کرتے ہیں۔قرآن شریف وظیفہ کے لئے نہیں ہے یہ عمل کرنے کے لئے اور اخلاق کو درست کرنے کے لئے ہے اگر آنحضرت ا صحابہ کو تسبیح ہاتھ