تذکرۃ المہدی — Page 178
تذكرة المهدي 178 کی خوبی ان کے کان میں ڈالی اور آپ اس سے نہایت خوش ہوئے۔حضرت اقدس علیہ السلام ہے جو عرض کرتا کہ میں نے وسعت اخلاق نظم لکھی ہے وہ سنانی چاہتا ہوں خواہ وہ پنجابی زبان میں ہو خواہ فارسی میں خواہ عربی میں آپ بے تکلف فرماتے کہ اچھا سناؤ اور آپ شوق سے سنتے خواہ وہ کیسی ژولیدہ طور سے ہوتی کسی کا دل نہیں توڑتے اور جزاک اللہ فرماتے لیکن میں نے خوب غور سے دیکھا کہ آپ کے جسم یا کسی عضو کو غزل قصیدہ نظم سننے کے وقت کسی قسم کی حرکت نہ ہوتی تھی اور آپ چپ چاپ بیٹھے سنا کرتے تھے اور بات چیت کرتے وقت یا وعظ کے وقت کبھی آپ کا عضو حرکت نہ کرتا تھا نہ آنکھ نہ رخسار نہ ہاتھ جیسے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ باتیں کرتے وقت ہاتھوں سے آنکھوں سے چہروں سے حرکت کیا کرتے ہیں اور جسم کی بوٹی ہوئی پھڑ کا کرتی ہے اور جو اس طرح سے بات کرتا آپ نا پسند کیا کرتے تھے مولوی عبد الله مجتهد لودھیانوی پر خدا تعالیٰ کی رحمت نازل ہو وہ کہا کرتے تھے کہ تم صاجزادہ صاحب غور کر کے دیکھنا اور میں نے تو خوب غور کیا ہے کہ حضرت اقدس باتیں کرتے ہیں اور ہنستے ہنساتے ہیں اور باتیں لوگوں کی سنتے ہیں اور لوگوں میں بیٹھتے ہیں لیکن آپ کے چہرہ اور بشرہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور وہ آیا اور کھڑے ہوئے گویا جیسے کسی عاشق کو اپنے معشوق کا انتظار ہوتا ہے سو واقعہ میں یہی حالت حضرت اقدس علیہ السلام کی دیکھی کہ حضرت رب العزت سے وہ کو لگ رہی تھی اور آپ ذات باری تعالی میں ایسے محود مستغرق معلوم ہوتے تھے کہ کسی چیز کی کوئی پروا نہیں تھی۔اور ذات احدیت میں فنا ہیں۔میں نے ایک دفعہ حضرت اقدس علیہ السلام سے وطن کے جانے کی اجازت چاہی فرمایا ابھی جا کے کیا کرو گے میں نے عرض کی کہ حضور ایک کام ضروری ہے فرمایا کیا کہیں عرس میں جانا ہے اور قوالی سننے کو جی چاہتا ہو گا پھر آپ ہنسنے لگے میں