تذکرۃ المہدی — Page 16
تذكرة المهدي 16۔خاص قلعہ والوں میں جنکے تعلقات نوابوں شہزادوں سے ہیں اور وہ پان کھاتی ہیں اور بہت سے ہندوستانی مرد عورتیں مہمان آتے ہیں اور پان کا استعمال کرتے ہیں اور ہمیں ان کے لئے پان امر تسر لاہور سے منگانے پڑتے ہیں پان کھانے کا خیال بھی نہیں آتا ہاں دو چار ماہ میں کسی ایسی حالت میں اتفاق ہو جاتا ہے کہ جو کبھی بیماری سے منہ کا مزہ بگڑ جاتا ہے اور وہ بھی والدہ محمود دید یتی ہیں اور کہتی ہیں کہ پان کھالو منہ کا مزہ درست ہو جائے گا اور زردہ افیون کا تو کیا کام ہے ایک دفعہ بیماری میں ایک طبیب نے اور دوائیوں میں افیون شامل کر کے خفیف سی دیدی تھی سو ایک ہی دفع کھانے سے ہماری طبیعت ایسی جگڑی کہ قریب الموت حالت ہو گئی تھی۔بات بیچ کی بیچ میں رہ گئی اور کچھ فیصلہ نہیں ہوا کس لئے کہ خواجہ کمال الدین صاحب لاہور سے آگئے مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور خواجہ کمال الدین صاحب نے ملاقات کی اور ان سے گفتگو ہونے لگی۔جوش تبلیغ و تواضع ایک روز کا ذکر ہے کہ قصیدہ اعجاز احمدی آپ لکھ رہے تھے اور اس کی کاپی غلام محمد کاتب امرتسری لکھ رہا تھا مجھے بھی بلوایا اور فرمایا کہ تم کاپی لکھو تاکہ جلدی یہ قصیدہ چھپ جا۔اور فرمایا کہ کاپی ہمارے پاس بیٹھ کر لکھو میں نے عرض کیا بہت اچھا آپ ایسا جلدی قصیدہ تصنیف کرتے تھے اور مجھے دیتے جاتے تھے کہ میں ابھی مضمون ختم نہیں کر سکتا تھا جو آپ اور مضمون دیدیتے تھے رات کے گیارہ بج گئے آپ کے لئے کھانا آیا فرمایا شام سے تو تم ہیں لکھ رہے ہو کھانا نہیں کھایا ہو گا آؤ ہم تم ساتھ کھائیں۔ہمیں تو اسلام کی خوبیاں اور قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے کے دلائل دیتے اور ثبوت نبوت محمد اللہ میں یہاں تک استیلا اور غلبہ ہے کہ ہمیں نہ کھانا اچھا لگتا ہے نہ پانی نہ نیند جب بھوک اور نیند کا سخت غلبہ ہوتا ہے تو ہم کھاتے ہیں یا سوتے ہیں۔پھر میں نے اور حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک دستر خوان پر کھانا کھایا جب کھانا کھا چکے فرمایا یہ دن بڑے ثواب اور جہاد