تذکرۃ المہدی — Page 176
تذكرة المهدى 176 غزل سناؤ کہ تمہاری آواز بہت پیاری معلوم ہوتی ہے ہم میں بھی چشتیت ہے ایک روز جہاں چھاپہ خانہ ضیاء الاسلام ہے رہاں رہتا تھا اور میرے گھر کے آدمی سر سادہ تھے صرف میں اکیلا تھا حضرت اقدس علیہ السلام کے سر میں درد شدت سے تھا وہاں حضرت اقدس علیہ السلام میرے پاس آکر لیٹ گئے اور فرمایا ہماری پنڈلیاں دباؤ میں دبانے لگا پھر فرمایا صاحب زادہ صاحب کوئی غزل پڑھو میں نے یہ غزل نظیر کی خوش الحانی سے سنائی۔فرمایا قوالی طرز میں پڑھو پھر میں نے پڑھی۔غزل کیا کہیں دنیا میں ہم انسان یا حیوان تھے خاک تھے کیا تھے غرض اک اُن کے مہمان تھے غیر کی چیزیں دبا رکھنی بڑی سمجھے تھے عقل چھین لی جب اسنے تب جانا کہ ہم نادان تھے ایک دن ایک استخواں پر پڑ گیا جو میرا پیر کیا کہوں اسلام مجھے غفلت میں کیا کیا دھیان تھے پیر پڑتے ہی غرض اس استخواں نے آہ کی اور کہا ہم بھی کبھی دنیا میں صاحب جان تھے دست و پا کام و زباں گردن شکم پشت و کمر دیکھنے کو آنکھیں اور سننے کی خاطر کان تھے رات کے سونے کو کیا کیا نرم و نازک تھے پلنگ بیٹھنے کو دن کے کیا کیا تخت اور ایوان تھے لگ رہے تھے دل کئی چنچل پری زادوں کے ساتھ کچھ نکالی تھی ہوس کچھ اور بھی ارمان تھے ایک ہی تھپڑ اجل نے آنکر ایسا دیا پھر نہ ہم تھے اور نہ وہ سب عیش کے سامان تھے ایسی بیدردی سے مجھ پر پاؤں مت رکھو نظیر او میاں ہم بھی کبھی تیری طرح انسان تھے جب میں اس مصرعہ پر کچھ نکالی تھی ہوس الخ پہونچا فرمایا پھر کہو پھر پڑھا پھر فرمایا پھر پڑھو پھر فرمایا یہ مصرعہ بہت اچھا ہے اور یہی مصرعہ اس منزل کی جان ہے تمام غزل سننے کے بعد آپ تشریف لے گئے۔ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مولانا نور الدین کی شکل