تذکرۃ المہدی — Page 175
تذكرة المهدي 175 د کسل برپا نہ ہو۔جہاں ہوں وہیں قرآن شریف دیکھ لیں ایک دفعہ آپ فرماتے تھے کہ خدا تعالی جو مجھے بہشت میں اور حشر میں نعمتیں دے تو میں سب سے پہلے قرآن شریف مانگوں اور طلب کروں تاکہ حشر کے میدان میں بھی اور بہشت میں بھی قرآن شریف پڑھوں پڑھاؤں سناؤں۔میں پیر زادہ ہوں صاحبزادہ ہوں صاحبزادوں میں اکثر تکبر اور غرور پیر زادگی بہت ہوا کرتی ہے اور حضرت اقدس علیہ السلام اس کو محسوس کر لیتے تھے حضرت خلیفتہ المسیح ہے بعض اوقات جو پیر زادگی کا خیال آجاتا تو مروڑ سے ہی رہتا۔اور حضرت خلیفتہ المسیح مجھ پر مہربانی فرماتے رہتے اور کبھی بھی اپنی زبان سے از روئے الطاف مربیانہ کچھ نہ فرماتے اور تعظیم و تکریم ہی کرتے رہتے اور حضرت اقدس علیہ السلام جو آپ کی تعظیم و تکریم و توقیر کرتے تو لامحالہ مجھے بھی کرنی پڑتی اور دل سے آپ جانتے کہ یہ صاحب زادہ ہے اس کو قرآن شریف سے خبر نہیں ہے اور در حقیقت مجھے کچھ بھی اس وقت تک خبر نہیں تھی اور کبھی کبھی زبان - فرما دیتے کہ آئیے ذرا ہمارے درس میں بھی بیٹھا کیجئے اور خود حضرت خلیفتہ المسیح سلمہ اللہ تعالیٰ میری جگہ پر مجھ جیسے گنہگار کے پاس تشریف لے آیا کرتے تھے اور بعض وقت جو میں اپنی نشست گاہ پر اشعار عاشقانہ خوش الحانی سے پڑھتا اور چپ ہو جاتا تو فرماتے کہ پیر صاحب اور پڑھئے ہم تو آپ کے پڑھنے کے مشتاق ہی رہ گئے ہمیں اشتیاق میں چھوڑ کے چپ ہو گئے ایک روز میں مسجد مبارک سے زینہ کی راہ سے اترتا تھا اور کچھ عاشقانہ اشعار خوش الحانی سے پڑھتا تھا اور حضرت خلیفتہ المسیح زینہ کے نیچے کھڑے سن رہے تھے جب میں آپ کو دیکھ کر خاموش ہو گیا تو فرمایا پیر صاحب کیوں چپ ہو گئے ہمیں تو وجد ہی آگیا تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام بھی کبھی بیمار ہو جاتے تھے یا لکھتے لکھتے تھک جاتے تو فرماتے کہ صاحبزادہ صاحب کو بلاؤ ان سے کوئی غزل سنیں گے اور میں سنا دیتا تو آپ کو تکلیف میں تسکین ہو جاتی ایک روز فرمانے لگے کہ صاحبزادہ صاحب کوئی