تذکرۃ المہدی — Page 15
تذكرة المهدي 15 لغویات میں رکھا جاوے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہاں ہمارا بھی یہی خیال ہے۔مولوی سید محمد احسن صاحب کو آپ نے مفتی بنا دیا تھا جو فتویٰ حضرت اقدس علیہ السلام کے پاس آتا وہ مولوی صاحب کے پاس جواب کے لئے حضرت اقدس بھیج دیا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ جب حضرت اقدس نے اپنے دعوے صحیح موعود میں صرف ایک اشتہار مختصر نکالا تھا وہ مولوی صاحب کے پاس بھوپال پہنچ گیا اور مولوی صاحب نے تصدیق کی اور ایک کتاب اعلام الناس حضرت اقدس کے دعوئی کے ثبوت میں لکھی اور چھپوا کر لدھیانہ حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت مبارک میں پہنچے تو حضرت اقدس نے مجھ سے فرمایا کہ پڑھ کر سناؤ چند ورق تو میں نے سنادے اور کچھ حصہ منشی ظفر احمد صاحب ساکن کپور تھلہ نے سنائے اور باقی حصہ مولوی محمود حسن صاحب دہلوی حال مدرس مدرسہ پٹیالہ نے سنایا حضرت اقدس علیہ السلام نے مضمون کو سن کر فرمایا کہ اس مضمون میں ہمارا اور مولوی صاحب کا توارد ہو گیا اور جو ہم نے لکھا ہے وہی مولوی صاحب نے لکھا دیکھو کیسی صحیح فراست ہے اور مولوی صاحب کیسے راسخ فی العلم ہیں کہ جو ہمیں خدا تعالی نے سمجھایا وہ مولوی صاحب بھی سمجھ گئے۔حالانکہ نہ ابھی ہماری طرف سے کوئی کتاب شائع ہوئی اور نہ کوئی اشتہار ملل نکلا ہے اور نہ کوئی اس بارے میں ہماری تصنیف دیکھی ہے یہ صرف روح القدس کی تائید ہے مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور میری عمر اتنی گذر گئی میں نے باوجود ہندوستان میں رہنے اور بھوپال جیسے شہر میں جو پانوں کی کان ہے اور کھانے والے شوقین ہیں کبھی پان نہیں کھایا صرف اس حالت میں کہ کہیں دعوت ہوئی اور داعی نے پان رکھدیا تو کھا لیا اور زردہ کا تو ذکر ہی کیا ہے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے ہنس کر فرمایا کہ بڑا کمال کیا جو تم بچے رہے ہندوستان میں تو اس کا ایسا رواج ہے کہ تواضع ہی اس کی رہ گئی ہے علی ہذا القیاس ہمارا بھی یہی حال ہے کہ ہمارے گھر میں والدہ محمود ہندوستانی اور ہندوستانی کیسی دہلی کی اور دہلی کی بھی کیسی